حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 118 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 118

حیات احمد ۱۱۸ گیا ہے اپنے علم اور عقل پر بنا نہیں تا ان دونوں بیانات میں بوجہ اتحاد بناء صورت تناقض پیدا ہو بلکہ براہین کی مذکورہ بالا عبارتیں تو صرف اس ظاہری عقیدے کی رو سے ہیں جو سرسری طور پر عام طور پر اس زمانے کے مسلمان مانتے ہیں اور اس دعویٰ کی بنا ء الہام الہی اور وحی ربانی پر ہے پھر تناقض کے کیا معنی ہیں۔میں خود یہ مانتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی امر پر بذریعہ اپنے خاص الہام کے مجھے آگاہ نہ کرے میں خود بخود آگاہ نہیں ہوسکتا اور یہ امر میرے لئے کچھ خاص نہیں اس کی نظیر میں انبیاء کی سوانح میں بہت ہیں ہم لوگ بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے لَا عِلْمَ لِي إِلَّا مَا عَلَّمَنِي رَبِّي - بلکہ خدا تعالیٰ کا سمجھانا بھی جب تک صاف طور پر نہ ہو انسان ضَعِيفُ الْبُنْيَان اس میں بھی دھوکا کھا سکتا ہے۔فَذَهَبَ وَهْلِی کی حدیث آپ کو یاد ہی ہوگی۔اب خدا تعالیٰ نے فتح اسلام کی تالیف کے وقت مجھے سمجھایا تب میں سمجھا اس سے پہلے کوئی اس بارے میں الہام نہیں ہوا کہ درحقیقت وہی مسیح آسمان سے اتر آئے گا اگر ہے تو آپ کو پیش کرنا چاہئے۔ہاں یہ عاجز روحانی طور پر مثیل موعود ہونے کا براہین میں دعویٰ کر چکا ہے جیسا کہ اسی صفحہ ۴۹۸ میں موعود ہونے کی نسبت یہ اشارہ ہے۔صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ چونکہ آپ نے اپنے ریویو میں اس دعوئی کا رڈ نہیں کیا اس لئے اپنے اس معرض بیان میں سکوت اختیار کر کے اگر چہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر مان لیا۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر براہین احمدیہ میں ابن مریم کے موعود یا غیر موعود ہونے کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا صرف ایک مشہور عقیدہ کے طور سے ذکر کر دیا تھا آپ کو اس جگہ اسے پیش کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم بھی بعض اعمال میں جب وحی نازل نہیں ہوتی جلد سوم