حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 111 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 111

حیات احمد ااا وجہ سے تمام محنت اس کی ضائع جائے۔اور طالب حق کو اس کی تقریر سے فائدہ نہ پہنچ سکے۔سو تحریری بحث کا ہونا ایک شرط ہے۔(۳) اس مجمع بحث میں وہ الہامی گروہ بھی ضرور شامل ہونا چاہئے جنہوں نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس عاجز کو جہنمی ٹھہرایا ہے۔اور ایسا کافر جو ہدایت پذیر نہیں ہو سکتا۔اور مباہلہ کی درخواست کی ہے۔الہام کی رو سے کافر اور ملحد ٹھہرانے والے تو میاں مولوی عبد الرحمن لکھو کے والے ہیں اور جہنمی ٹھہرانے والے میاں عبدالحق غزنوی ہیں جن کے الہامات کے مصدق و پیرو میاں مولوی عبدالجبار ہیں۔سوان تینوں کا جلسہ بحث میں حاضر ہونا ضروری ہے تا کہ مباہلہ کا بھی ساتھ ہی قضیہ طے ہو جائے اور اگر مولوی صاحب با ہم مسلمانوں کے مباہلہ کو صورت پیش آمدہ میں ناجائز قرار نہ دیں تو مباہلہ بھی اسی مجلس میں ہو جائے۔کیونکہ یہ عاجز اکثر بیمار رہتا ہے۔بار بارسفر کی طاقت نہیں۔(۴) یہ کہ تحریری بحث کے لئے تمام مخالف الرائے مولوی صاحبوں کی طرف سے آپ منتخب ہوں کیونکہ یہ عاجز نہیں چاہتا کہ خواہ نخواہ لعن طعن اور تو تو میں میں متفرق لوگوں کا سنے ایک مہذب اور شائستہ آدمی تحریری طور پر سوالات پیش کرے کہ اس عاجز کے اس دعوی میں یہ جس کی الہام الہی پر بنا ہے۔کیا خرابیاں ہیں۔اور کیا وجہ ہے کہ اس کو قبول نہ کیا جاوے سو اس عاجز کی دانست میں اس کام کے لئے آپ سے بہتر اور کوئی نہیں۔(۵) یہ آپ کا اختیار ہے کہ جس تاریخ میں آپ گنجائش سمجھیں مجھے اور اخویم مولوی نورالدین صاحب کو اطلاع دیں چونکہ یہ عاجز بیمار ہے اور مرض سدر و دَوَّار سے لا چار اور ضعیف بہت ہے اس لئے اخویم مولوی نورالدین صاحب کا شامل آنا مناسب سمجھتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ اس عاجز کی طبیعت زیادہ علیل ہو جائے تو جیسا اکثر دورہ مرض کا ہوتا رہتا ہے اور زیادہ بات کرنے سے سخت دورہ مرض کا ہوتا ہے۔اس صورت میں مولوی صاحب حسب منشاء اس عاجز کے مناسب وقت کارروائی کر سکتے ہیں۔جلد سوم