حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 110 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 110

حیات احمد 11+ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى - مخدومی اخویم مولوی صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ آج لدھیانہ میں آپ کا محبت نامہ مجھ کو ملا۔بظاہر مجھے گفتگو میں کچھ فائدہ معلوم نہیں دیتا مجھے خدا تعالیٰ نے ایک علم بخشا ہے جس کو میں چھوڑ نہیں سکتا۔ایسا ہی آپ بھی اپنی رائے کو چھوڑنے والے نہیں۔مجھے ایک ایسا سبیل بخشا گیا ہے جو معرض بحث میں نہیں آ سکتا۔وَلَيْسَ الْخَبْرُ كَالْمُعَايَنَةِ ہاں اس نیت سے میں مجلس علماء میں حاضر ہو سکتا ہوں کہ شائد خدا تعالیٰ حاضرین میں سے کسی کے دل کو اس سچائی کی طرف کھینچے جو اس نے عاجز پر ظاہر کی ہے سواگر شرائط مندرجہ ذیل آپ قبول فرما دیں تو میں حاضر ہو سکتا ہوں۔(۱) اس مجمع میں حاضر ہونے والے صرف چند ایسے مولوی صاحب نہ ہوں جو مدعی کا حکم رکھتے ہیں کیونکہ وہ مجھ سے بجز اس صورت کے ہرگز راضی نہیں ہو سکتے کہ میں ان کے خیالات و اجتہادات کا اتباع کروں اور میری طرف سے بار بار ان کو یہی جواب ہے کہ اِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدَی اگر یہ مجمع کسی قدر عام مجمع ہو گا اور ہر ایک مذاق اور طبیعت کے آدمی اس میں ہوں گے تو شاید کوئی دل حق کی طرف توجہ کرے اور مجھے اس کا ثواب ملے۔سو میں چاہتا ہوں کہ یہ مجلس صرف چند مولوی صاحبوں میں محدود نہ ہو۔(۲) دوسری شرط یہ ہے کہ یہ بحث جو محض إِظْهَارًا لِلْحَق ہو گی تحریری ہو کیونکہ بار ہا تجربہ ہو چکا ہے کہ صرف زبانی باتیں کرنا آخر منجر بفتنہ ہوتی ہیں۔اور بجز حاضرین کے دوسروں کو ان کی نسبت رائے لگانے کا موقع نہیں دیا جاتا اور کیسی ہی عمدہ اور محققانہ باتیں ہوں جلدی بھول جاتی ہیں اور جن لوگوں کو غلو یا دروغ بیانی کی عادت ہے خواہ وہ کسی گروہ کے ہیں اُن کو جھوٹ بولنے کے لئے بہت سی گنجائش نکل آتی ہے کوئی شخص محنت اٹھا کر اور ہر ایک قسم کے اخراجات سفر کا متحمل ہو کر اور بہت سی مغز خواری کرنے کے بعد کب روا رکھ سکتا ہے کہ غیر منتظم فریق کی جلد سوم