حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 109
حیات احمد 1+9 جلد سوم اس عرصہ میں مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے بھی خط و کتابت شروع کر دی اور اپنی مخالفت اور اپنے اسباب اشاعت سے مرعوب کرنا چاہا۔مولوی محمد حسین صاحب حضرت حکیم الامت کے علم و فضل سے ناواقف نہ تھا اور وہ مسئلہ ناسخ منسوخ پر آپ سے گفتگو کر کے مِنْ وَجْہ شکست کھا چکا تھا تا ہم اسے گھمنڈ تھا۔اور اس میں کلام نہیں وہ اپنے معاصرین میں ایک ممتاز عالم تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ اس کے مامورین کے مقابلہ میں جب کوئی شخص مخالفت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اُس کا علم اُس کا زُہد سلب ہو جاتا ہے حضرت حکیم الامت نے ان کے خطوط کا جواب دیا اور مولوی محمد حسین صاحب نے بزعم خود اپنی خود نمائی کے لئے حضرت کو بھی اس خط و کتابت سے مطلع کیا۔حضرت نے اس جھگڑے میں دخل دینا پسند نہ کیا مولوی صاحب کے اصرار پر آپ نے حضرت حکیم الامت کے حق میں فیصلہ دیا تو یہ بھی اسے ناگوار گزرا اور حضرت سے شکوہ کیا۔جیسا کہ ص ۵ کے مکتوب سے معلوم ہو گا حضرت نے شروع ہی میں اس کو ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن جب مخالفت میں ترقی کرتا گیا اور حضرت کو لود ہا نہ جانا تھا تو اس نے لکھا کہ لاہور سے میں بٹالہ آ کر ملاقات کر سکتا ہوں اس وقت کوئی موقعہ نہ تھا اس لئے حضرت نے وہ خط لکھا جو صفحہ ۵ پر درج ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے مباحثہ کی طرح ڈالی اس سلسلہ خط و کتابت میں مولوی محمد حسین صاحب نے مباحثہ کی طرح ڈالنی چاہی حضرت اس کو پسند نہ کرتے تھے اس لئے کہ مباحثات میں بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف سے قبول حق کے لئے آمادہ ہوں ورنہ ان کا مقصد ہار جیت ہوتا ہے اس سلسلہ میں حضرت مولوی صاحب کو حسب ذیل جواب دیا۔حمدیہ مکتوب جلد ھذا کے صفحہ ۱۰۶،۱۰۵ پر ہے۔(ناشر)