حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 107
حیات احمد 1+2 جلد سوم فروتنی اور انکسار اور ہر ایک ایسے تذلل کو جو منافی نخوت ہے پسند کرتا ہے۔ایسا کوئی شعبہ خلق کا اس کو پسند نہیں (جو اس کے مغائر ہوں۔) مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک سخت بے دین ہندو سے اس عاجز کی گفتگو ہوئی اور اس نے حد سے زیادہ تحقیر دینِ متین کے الفاظ استعمال کئے۔غیرت دینی کی وجہ سے کسی قدر اس عاجز نے وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ پر عمل کیا مگر چونکہ وہ ایک شخص کو نشانہ بنا کر درشتی کی گئی تھی اس لئے الہام ہوا کہ تیرے بیان میں سختی بہت ہے رفق چاہیئے رفق“۔اور اگر ہم انصاف سے دیکھیں تو ہم کیا چیز اور ہمارا علم کیا چیز۔اگر سمندر میں ایک چڑیا منقار مارے تو اس سے کیا کم کرے گی۔ہمارے لئے یہی بہتر ہے کہ جیسے ہم درحقیقت خاکسار ہیں۔خاک ہی بنے رہیں۔جب کہ ہمارا مولیٰ ہم سے تکبر اور نخوت پسند نہیں کرتا تو کیوں کریں ہمارے لئے ایسی عزت سے بے عزتی اچھی ہے جس سے ہم مور دعتاب ہو جائیں۔آپ کی تحریر اگر اس طرح پر ہوتی کہ جس قدر خداوند تعالیٰ نے میرے پر کھولا ہے اگر آپ مہربانی فرما کر ملیں یا میں ملوں تو بیان کروں گا تو کیا اچھا ہوتا۔یہ قاعد ہے کہ جس حالت اندرونی سے الفاظ نکلتے ہیں وہی رنگ الفاظ میں بھی آجاتا ہے۔عده میں نے اس فیصلہ میں مولوی نورالدین صاحب کا کچھ لحاظ نہیں کیا اور محض للہ آں مکرم کی خدمت میں عرض کی گئی ہے۔اس عاجز کو پختہ طور پر معلوم نہیں کہ کس تاریخ اس جگہ سے یہ عاجز روانہ ہو۔بعض موانع پیش آگئے ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ شائد ایک ہفتہ کے اندر اندر روانہ ہو جاؤں اس صورت میں بالفعل ملاقات مشکل معلوم ہوتی ہے لہذا اطلاعاً آپ کی خدمت میں لکھتا ہوں کہ اس عاجز کے لئے بٹالہ ا نوٹ۔بریکٹ والا حصہ۔مکتوبات احمد یہ جلد چہارم صفحہ ۶ پر یہ حصہ مندرج نہیں مگر مکرم عرفانی صاحب نے حیات احمد جلد سوم صفحہ ۶۶ میں اسے درج فرمایا ہے۔(ناشر)