حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 106
حیات احمد 1۔4 دکھلا نا مناسب نہیں سمجھتا اس لئے اجازت نہیں دے سکتا۔مگر اس عاجز کی رائے میں صرف ہیں پچیس روز تک رسالہ ازالتہ الا و ہام چھپ جائے گا۔کچھ بہت دیر نہیں ہے۔پھر انشاء اللہ القدیر سب سے پہلے یہ عاجز آں مکرم کی خدمت میں بھیج دے گا۔آں مکرم کو معلوم ہو گا کہ در حقیقت ان رسالوں میں کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ کم و بیش یہ وہی دعوئی ہے جس کا براہین احمدیہ میں بھی ذکر ہو چکا ہے جس کی آں مکرم اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں امکانی طور پر تصدیق کر چکے ہیں۔پھر متعجب ہوں کہ اب پھر دوسری مرتبہ آں مکرم کو دیکھنے کی حاجت ہی کیا ہے۔کیا وہی کافی نہیں جو پہلے آں مکرم اشاعۃ السنہ نمبر ۶ جلدے میں تحریر فرما چکے ہیں۔جب کہ اوّل سے آخر تک وہی دعویٰ وہی مضمون وہی بات ہے تو پھر آپ جیسے محقق کی نگاہ میں نہ معلوم ہو کس قدر تعجب ہے۔یہ عاجز اس رسالہ ازالتہ الا وہام میں آں مکرم کے ریویو کی بعض باتیں درج بھی کر چکا ہے اس عاجز نے جو ۵/ جنوری ۱۸۸۸ء کو خواب دیکھی تھی۔اُس کی سرخی کمینہ تھا۔جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں ہوئی۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔پھر بھی میں آں مکرم کو اللہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس سماوی امر میں آپ کا دخل دینا مناسب نہیں مثیل مسیح موعود کا دعوی کوئی امر عند الشرع مستبعد نہیں۔اگر آپ ناراض نہ ہوں تو اس عاجز کی دانست میں اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کے مقابل آپ کی تحریر میں کسی قدر سختی تھی۔خدا تعالیٰ انکسار اور تذلل کو پسند کرتا ہے اور علماء کے اخلاق اپنے بھائیوں کے ساتھ سب سے اعلیٰ درجے کے چاہئیں۔جس دین کی حمایت اور ہمدردی کے لئے دن رات کوششیں ہو رہی ہے۔وہ کیا ہے؟ صرف یہی کہ اللہ اور رسول کی منشاء کے موافق ہمارے جمیع احوال و افعال و حرکات وسکنات ہو جائیں۔میرے خیال میں اخلاق کے تمام حصوں میں سے جس قدر خدا تعالیٰ تواضع اور جلد سوم