حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 105 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 105

حیات احمد ۱۰۵ جلد سوم صادق ہوں۔اور اگر صادق نہیں تو پھر ان يُكُ كَاذِبًا کی تہدید پیش آنے والی ہے۔لَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ وَلَا تَدْخُلْ نَفْسَكَ فِيْمَالَا تَعْلَمْ حَقِيْقَتَهُ يَا أَخِيْ ۖ وَأُفَوِّضُ أَمْرِكْ إِلَى اللهِ يُؤْتِكَ أَجْرَ صَبْرِكَ يَا أَخِي وَأَنَا انْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ وَاَرْجُوْ تَائِيْدَ اللَّهِ وَ أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ - وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى حضرت اخویم حتی فی سبیل اللہ مولوی حکیم نورالدین اور آں مکرم کی تحریرات میں یہ عاجز دخل نہیں دینا چاہتا۔خاکسار غلام احمد مکتوبات احمد یہ جلد چہارم صفحه ۳ تا ۵۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۳۱۴٬۳۱۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اوراق ازالہ اوہام کا مطالبہ اس سلسلہ میں مولوی محمد حسین صاحب نے نا تمام ازالہ اوہام کا مطالبہ کیا وہ چاہتا تھا کہ اپنی مخالفت کا پورا زور لگائے اور ازالہ اوہام پر بھی حضرت کو اس کا اندیشہ تھا مگر آپ اشاعت سے پہلے کتاب کے اوراق کبھی دینا پسند نہ کرتے تھے چنانچہ قارئین کرام پڑھ آئے ہیں کہ حضرت نے حضرت حکیم الامت کو بھی نا تمام فتح اسلام دینے سے انکار کر دیا تھا۔ہاں آپ یہ چاہتے تھے کہ مولوی محمد حسین صاحب ازالہ اوہام پڑھ لیں تا کہ ان کو صحیح علم آپ کے دعوئی اور دلائل کا ہو جاوے۔اس لئے اس مطالبہ پر آپ نے لکھا۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى - از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد عَافَاهُ اللهُ وَ أَيَّدَهُ - بخدمت مجبی اخویم مکرم ابوسعید محمد حسین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ یہ عاجز اپنی دانست میں نا تمام مضمون ازالتہ الا وہام کا آں مکرم کو