حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 104 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 104

حیات احمد ۱۰۴ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته محبت نامہ پہنچا۔چونکہ آں مکرم عزم پختہ کر چکے ہیں تو پھر میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔اس عاجز کی طبیعت بیمار ہے۔دورانِ سر اور ضعف بہت ہے۔ایسی طاقت نہیں کہ کثرت سے بات کروں جس حالت میں آں مکرم کسی طور سے اپنی ارادہ سے باز نہیں رہ سکتے اور ایسا ہی یہ عاجز اس بصیرت اور علم سے اپنے تئیں نابینا نہیں کر سکتا جو حضرت احدیت جَلَّ شانہ نے بخشا ہے۔اس صورت میں گفتگو عبث ہے۔رسالہ ابھی کسی قدر باقی ہے۔ناقص کو میں بھیج نہیں سکتا۔اس جگہ آنے کے لئے آں مکرم کو یہ عاجز تکلیف دینا نہیں چاہتا مگر ۲۶ فروری ۱۸۹۱ء کو یہ عاجز انشاء اللہ القدير لو دیانہ کے ارادہ سے بٹالہ میں پہنچے گا۔وہاں صرف آپ کی ملاقات کرنے کا شوق ہے۔گفتگو کی ضرورت نہیں اور یہ عاجز للہ آپ کے ان الفاظ کے استعمال سے جو مخالفانہ تحریر کی حالت میں کبھی حد سے بڑھ جاتے ہیں یا اپنے بھائی کی تذلیل اور بدگمانی تک نوبت پہنچاتے ہیں معاف کرتا ہے۔وَاللَّهُ عَلَى مَا قُلْتُ شَهِيدٌ۔چند روز کا ذکر ہے کہ پرانے کاغذات کو دیکھتے دیکھتے ایک پرچہ نکل آیا۔جو میں نے اپنے ہاتھ سے بطور یادداشت کے لکھا تھا۔اس میں تحریر تھا کہ یہ پرچہ ۵/جنوری ۱۸۸۸ء کولکھا گیا ہے۔مضمون یہ تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی امر میں مخالفت کر کے کوئی تحریر چھپوائی ہے اور اس کی سرخی میری نسبت ” کمینہ “ رکھی ہے۔معلوم نہیں اس کے کیا معنی ہیں۔اور وہ تحریر پڑھ کر کہا ہے۔کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا۔پھر آپ نے کیوں ایسا مضمون چھپوایا۔هَذَا مَا رَأَيْتُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِتَأْوِيْلِهِ چونکہ حتی الوسع خواب کی تصدیق کے لئے کوشش مسنون ہے اس لئے میں آں مکرم کو منع کرتا ہوں کہ آپ اس ارادہ سے دست کش رہیں۔خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعوی میں