حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 103
حیات احمد ۱۰۳ جلد سوم ہیں جنہوں نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھتے وقت انتہائی ادب اور عقیدت کا اظہار کیا تھا اور وہ میدان مخالفت میں ہر قسم کے ہتھیاروں کو لے کر نکل آیا۔اس کی جڑ وہی آدم و ابلیس کے رنگ میں بآسانی معلوم ہو سکتی ہے۔غرض مولوی صاحب نے اس خط و کتابت کے ذریعہ مخالفت کے لئے آمادگی کا اظہار کیا حضرت چاہتے تھے ان قدیم تعلقات کی بناء پر اور اس شفقت و ہمدردی کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مامورین کی فطرت میں ہوتی ہے کہ وہ اس میدان اختلاف سے پرچم سعادت کے نیچے آ کھڑا ہو مگر اللہ تعالیٰ کو اپنی قدرت نمائی اور زور آور حملوں سے آپ کی صداقت کا اظہار مقصود تھا اس لئے مخالفت میں شدت ہوتی گئی اور حضرت کو انہوں نے لکھا کہ میں اختلاف مشتہر کرنے کا عزم کر چکا ہوں اس پر حضرت نے ان کو ایک خط اپنے پرانے خواب کی بنا پر لکھا جو ۱۸۸۸ء میں آپ نے دیکھا تھا۔مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ریویو کچھ اقتباس یہاں دیدوں اگر چہ میں براہین احمدیہ پر مختلف لوگوں کی آراء کو علیحدہ شائع کرنے کا شروع سے ارادہ رکھتا ہوں لیکن موافق سے مخالف بن جانے کے سلسلہ میں چند اقتباس دیتا ہوں۔آپ کی واقفیت کا اظہار میں اوپر کر آیا ہوں سلسلہ ریویو میں کہتے ہیں۔”ہماری رائے میں یہ کتاب (براہین احمدیہ - عرفانی) اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر اب تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔اس طرح پر حضرت کی خدمات اسلام اور آپ کی عدیم النظیر تالیف اور حالی واقعات کی تصدیق کرنے کے بعد اس کتاب کو وسیلہ قرار دے کر دعا کرتا ہے اے خدا! اپنے طالبوں کے رہنما! ان پر زیادہ رحم فرما تو اس کتاب (براہین احمدیہ ) کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کی برکات سے ان کو مالا مال کر دے اور کسی اپنے صالح بندہ کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہ گار ( یعنی محمد حسین۔عرفانی) کو بھی اپنے فیوض و انعامات اور اس کتاب کی اخص برکات سے فیض یاب کر ( ریویو براہین )