حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 102
حیات احمد ۱۰۲ جلد سوم سے کوئی حجت ظاہر کر دے گا۔میں آپ کے لئے دعا کروں گا مگر ضرور ہے کہ جو آپ کے لئے مقدر ہے وہ سب آپ کے ہاتھ سے پورا ہو جائے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو آپ نے مثل لکھی ہے۔اشارۃ القص میں پایا جاتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ موسیٰ“ نے کیا۔اس قصے کو قرآن شریف میں بیان کرنے سے غرض بھی یہی ہے کہ تا آئندہ حق کے طالب معارف روحانیہ اور عجائبات مخفیہ کے کھلنے کے شائق رہیں۔حضرت موسیٰ کی طرح جلدی نہ کریں۔حدیث صحیح بھی اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اب مجھے آپ کی ملاقات کے لئے صحت حاصل ہے۔آپ اگر بٹالے میں آ جائیں تو اگر چہ میں بیمار ہوں دوران سر اس قدر ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی تاہم افتاں و خیزاں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں۔بقول رنگین وہ نہ آوے تو تو ہی چل رنگین اس میں کیا تیری شان جاتی ہے از الہ الا و ہام ابھی چھپ کر نہیں آیا۔فتح اسلام اور توضیح المرام ارسال خدمت ہیں۔الراقم غلام احمد از قادیان مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۱۲،۳۱۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) میں نے ان خطوط کو اس لئے درج کر دیا ہے کہ قارئین کرام خود صحیح نتیجہ اخذ کر لیں کہ مولوی محمد حسین صاحب کے کلام میں تبختر اور استکبار ہے اور بالمتقابل حضرت مسیح موعود چاہتے ہیں کہ اسے حق کے سمجھنے اور اول المنکرین ہونے سے بچانے میں مدد دیں۔اس کے بعد مولوی محمد حسین صاحب نے صاف صاف لکھ دیا کہ میں مخالف محاذ قائم کرنے سے رک نہیں سکتا ( مفہوم ) اور اب تک خطوط میں جو کسی حد تک ادب یا رسمی اخلاق کا پہلو کمزور نہ ہوا کرتا تھا وہ بالکل بدل گیا اور ایسا رنگ آنے لگا جو ہر واقف شخص کو حیرت میں ڈال رہا تھا کہ کیا یہ وہی مولوی محمد حسین صاحب