حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 101
حیات احمد 1+1 بِسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي مخدومی مکرم اخویم مولوی صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ جلد سوم عنابیت نامہ پہنچا۔اگر چہ خدا وند کریم خوب جانتا ہے کہ یہ عاجز اُس کی طرف سے مامور ہے اور ایسے امور میں جہاں عوام کے فتنے کا اندیشہ ہے جب تک کامل اور قطعی اور یقینی طور پر اس عاجز پر ظاہر نہیں کیا جاتا ہر گز زبان پر نہیں لاتا لیکن اس میں کچھ حکمت خداوند کریم کی ہوگی کہ اس نزول مسیح کے مسئلہ پر جس کو اصل اور کپ اسلام سے کچھ تعلق نہیں اور ایک مسلمان پر اس کی اصل حقیقت کھولی گئی ہے جس پر بوجہ اخوت حسن ظن بھی کرنا چاہئے۔آں مکرم کو مخالفانہ تحریر کے لئے جوش دیا گیا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ آپ کی اس میں نیت بخیر ہوگی اور اگر چہ مجھے آپ کے استعمال کی نسبت شکایت ہو اور اس کو رو برو یا غائبانہ بیان بھی کروں مگر آپ کی نیت کی نسبت مجھے حسن ظن ہے اور آپ کو زمانہ حال کے اکثر علماء بلکہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو بعض لتہی جد و جہد کے کاموں کے لحاظ سے مولوی نذیر حسین صاحب سے بھی بہتر سمجھتا ہوں۔اور اگر چہ میں آپ سے ان باتوں کی شکایت کروں تاہم مجھے بوجہ آپ کی صفائی باطن کے آپ سے محبت ہے۔اگر میں شناخت نہ کیا جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میرے لئے یہی مقدر تھا۔مجھے فتح اور شکست سے بھی کچھ تعلق نہیں بلکہ عبودیت و اطاعت حکم سے غرض ہے۔میں جانتا ہوں کہ اس کے خلاف میں آپ کی نیت بخیر ہو گی۔لیکن میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ اوّل مجھ سے بات چیت کر کے اور میری کتابوں کو یعنی رسالہ ثلاثہ کو دیکھ کر کچھ تحریر کریں۔مجھے اس سے کچھ غم اور رنج نہیں کہ آپ جیسے دوست مخالفت پر آمادہ ہوں۔کیونکہ یہ مخالفتِ رائے بھی حق کے لئے ہوگی۔گل میں نے اپنے بازو پر یہ لفظ اپنے تئیں لکھتے ہوئے دیکھا کہ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے“۔اور اس کے ساتھ مجھے الہام ہوا اِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِيْنِ سو میں جانتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ اپنی طرف