حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 100
حیات احمد که موعود مسیح وہ ابن مریم نہیں جس کے قیامت سے پہلے آنے کا قرآن و حدیث میں وعدہ ہے اور وہ آپ ہی ہیں اس کا جواب صرف ہاں یا نعم فرما دیں زیادہ توضیح کی ضرورت نہیں۔جلد سوم (اشاعۃ السنہ جلد ۱۲ نمبر ۱۲ صفحه ۳۵۴) اس مطالبہ کے جواب میں ۵ فروری ۱۸۹۱ء کو حضرت نے مندرجہ ذیل خط لکھا بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی اخویم۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔عاجز کی طبیعت علیل ہے اخویم منشی عبدالحق صاحب کو تاکید فرما دیں کہ جہاں تک جلد ممکن ہو معمولی گولیاں ارسال فرما ئیں۔توجہ سے کہہ دیں۔افسوس کہ میری علالت طبع کے وقت آپ عیادت کے لئے بھی نہیں آئے۔اور آپ کے استفسار کے جواب میں صرف ”ہاں“ کافی سمجھتا ہوں۔والسلام ۵ فروری ۱۸۹۱ء خاکسار غلام احمد مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۳۱۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس خط کے جواب میں بٹالوی صاحب نے اار فروری ۱۸۹۱ء کو لکھا کہ مجھے کمال افسوس ہے کہ مجھے آپ کے اس دعوی کا کہ میں مسیح موعود ہوں خلاف مشتہر کرنا پڑا۔آپ خدا سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس خلاف سے رو کے۔۔۔۔۔آپ کے رسائل توضیح مرام اور ازالہ اوہام میرے خلاف کو نہیں روکیں گے۔مجھے یقین ہے کہ آپ اور آپ کے حواری ☆ عقلی یا نقلی دلائل سے آپ کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ کر سکیں گئے، صفحہ ۳۵۶، ۵۷ اس کے جواب میں پھر حضرت اقدس نے ان کو ذیل کا خط لکھا۔تلخیص مکتوب مولوی محمد حسین صاحب شائع شدہ اشاعۃ السنتہ نمبر یکم لغایت پنجم جلد دواز دہم بابت ۱۳۰۶ و ۱۳۰۷ھ مطابق ۱۸۸۹ء