حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 12
حیات احمد بیان کیا ہے :- ۱۲ جلد دوم حصہ اول اس احقر نے ۱۸۶۴ ء یا ۱۸۶۵ء میں یعنی اُسی زمانے کے قریب جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصے میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا۔جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلّم کو خواب میں دیکھا اور اُس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب بقیہ حاشیہ:۔طرف کھینچے۔آمین اب عرض ضروری اپنے بھائیوں کی خدمت میں یہ ہے کہ اول حالت میں تو یہ کتاب صرف پندرہ جزو میں تمام ہوئی تھی لیکن ہم نے بغرض تکمیل تمام ضروری مراتب کے اسی قدر نو حصے اور بھی زیادہ کر دیئے یعنی کل ڈیڑھ سو جزو ہوگئی ہے۔اور اگر چہ اس کتاب کی ضخامت تو پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے لیکن اس سے روز کے جھگڑے کا فیصلہ تو ہو گیا۔اب یہ کتاب دس حصہ کلاں پر مشتمل ہے جو ہر ایک حصہ اگر ہزار نسخہ چھاپا جاوے تو چورانویں روپے کی لاگت سے چھپتا ہے اس صورت میں تمام کتاب کی لاگت نوسو چالیس روپے ہوتے ہیں لیکن چھپنا ایسی بڑی کتاب کا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے مشکل ہے اور ایسے اہم کام میں بدل و جان مدد گار رہنا اور آپ دستگیری کر کے انجام دے دینا جس قدر ثواب ہے کسی امتی پر پوشیدہ نہیں۔جن لوگوں کا قرآن مجید میں صالحین اور صدیقین اور شہداء نام لکھا گیا ہے وہ وہی لوگ ہیں جو دین کے کام میں بدل و جان مجاہدہ کرتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سارا مال اپنا دین کی تائید میں دے کر عاقبت خرید لی تھی۔اگر آپ