حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 68 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 68

حیات احمد ۶۸ جلد دوم حصہ اوّل رؤساء اور امراء کو توجہ نہیں ہوئی۔میں ایک خوش اعتقاد مرید کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک وقائع نگار کی حیثیت سے اس مسئلہ کو لیتا ہوں براہین احمدیہ کے متعلق دعوئی یہ کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت خاص سے یہ کتاب لکھی گئی ہے اور مؤلف نے مامور ہو کر اسے لکھا ہے اگر ہندوستان کے نواب اور والیان ریاست اس کتاب کی تائید کرتے تو خدا تعالیٰ کی خاص نصر توں کا پتہ نہ لگتا۔حضرت نے اپنی طرف سے اتمام حجت کے لئے اس کتاب کی اعانت کے لئے تمام سر بر آورده رؤسا کو لکھا اور توجہ دلائی مگر صدائے برنخاست کا مضمون ہوا جن چند امراء یا مسلمان عہدہ داروں کو خیال ہوا اور انہوں نے کوئی امداد کی وہ ان کے نام کے ساتھ ایسی حقیر معلوم ہوتی ہے کہ کچھ کہا نہیں جا تا مثلاً نواب اقبال الدولہ مرحوم نے ایک سورو پیہ کی مدد کی یہ شخص اپنی فیاضی میں بینظیر تھا۔اس کو ایک لا کھ دیدینا بھی کچھ بات نہ تھی مگر خدا کی مشیت نے ان سے صرف ایک سور و پیہ دلوایا اور وہ بھی بطور نشان تھا کیونکہ حضرت اقدس کو رویا میں دکھایا گیا تھا چنانچہ آپ نے صفحہ ۷ ۴۷ براہین احمدیہ کے حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ میں لکھا ہے: از انجملہ ایک یہ ہے کہ کچھ عرصہ ہوا ہے کہ خواب میں دیکھا تھا کہ حیدر آباد سے نواب اقبال الدولہ صاحب کی طرف سے خط آیا ہے اور اُس میں کسی قدر روپیہ دینے کا وعدہ لکھا ہے۔یہ خواب بھی بدستور روز نامہ مذکورہ بالا میں اسی ہندو کے ہاتھ سے لکھائی گئی اور کئی آریوں کو اطلاع دی گئی پھر تھوڑے دنوں کے بعد حیدر آباد سے خط آگیا اور نواب صاحب موصوف نے سو روپیہ بھیجا۔فَالْحَمْدُ لِله عَلَى ذَالِك ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۶۹،۵۶۸) جن لوگوں نے براہین کی اشاعت کے لئے امداد دی ان کے اسماء پہلے صفحات میں بعض حواشی کے اندر آگئے ہیں مجھے بالتفصیل ان کو یہاں بیان نہیں کرنا بلکہ صرف اس امر پر روشنی ڈالنی ہے کہ امراء اور رؤساء نے اس کام میں کیا حصہ لیا۔اس کے متعلق میں اپنی طرف سے کسی