حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 557 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 557

حیات احمد ۵۵۷ جلد دوم حصہ سوم حکموں کی کچھ پرواہ نہ کی۔وہ غیرت مند اور نہایت درجہ کا غیور خدا جس نے نافرمانی کی وجہ سے شمود اور عاد کو ہلاک کیا۔لوط کی قوم پر پتھر برسائے۔فرعون کو معہ اس کی تمام شریرہ جماعت کے ہولناک طوفان میں غرق کر دیا۔کیا اس کی شان اور غیرت کے لائق ہے کہ اس نے ابراہیم اور یعقوب اور موسیٰ اور داؤ د اور سلیمان اور دوسرے کئی انبیاء کو بہت سی بیویوں کے کرنے کی وجہ سے تمام عمر نا فرمان پا کر پکے سرکش دیکھ کر پھر ان پر عذاب نازل نہ کیا۔بلکہ انہیں سے زیادہ تر دوستی اور محبت کی۔کیا آپ کے خدا کو الہام اتارنے کے لئے کوئی آدمی نہیں ملتا تھا یا بہت سی جو رواں کرنے والے ہی اس کو پسند آ گئے ؟ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نبیوں اور تمام برگزیدوں نے بہت سی جو رواں کر کے اور پھر روحانی طاقتوں اور قبولیتوں میں سب سے سبقت لے جا کر تمام دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوست الہی بننے کے لئے یہ راہ نہیں کہ انسان دنیا میں مختوں اور نامردوں کی طرح رہے بلکہ ایمان میں قومی الطاقت وہ ہے کہ جو بیویوں اور بچوں کا سب سے بڑھ کر بوجھ اٹھا کر پھر باوجود ان سب تعلقات کے بے تعلق ہو۔خدائے تعالیٰ کا بندہ سے محبّ اور محبوب ہونے کا جوڑ ہونا ایک تیسری چیز کے وجود کو چاہتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ایمانی روح جو مومن میں پیدا ہو کر نئے حواس اس کو بخشتی ہے۔اسی رُوح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا کلام مومن سنتا ہے۔اور اسی کے ذریعہ سے سچی اور دائمی پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔اور اسی کے ذریعہ سے نئی زندگی کی خارق عادت طاقتیں اس میں پیدا ہوتی ہیں۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ جو لوگ جوگی اور راہب اور سنیاسی کہلاتے ہیں یہ پاک روح اُن میں سے کس کو دی گئی ہے۔کیا کسی پادری میں یہ پاک روح یا یوں کہو کہ روح القدس پائی جاتی ہے۔ہم تمام دنیا کے پادریوں کو بلاتے بلاتے تھک بھی گئے۔کسی نے آواز تک نہیں دی۔نور افشاں میں بعض پادریوں نے چھپوایا تھا کہ ہم ایک جلسہ میں ایک لفافہ بند پیش کریں گے اس کا مضمون الہام کے ذریعہ سے ہمیں بتلایا جائے۔لیکن جب ہماری طرف سے مسلمان ہونے کی شرط سے یہ درخواست منظور ہوئی۔تو پھر پادریوں انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جو رو کرنے کی فکر میں تھے۔مگر تھوڑی سے عمر میں اٹھائے گئے ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔منہ