حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 556 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 556

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ہاں اگر مرد اپنی قوت مردمی میں قصور یا بجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کے رُو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے۔اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی ذمہ دار اور کار برار نہیں ہوسکتی۔اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لئے قائم رہتا ہے۔جو لوگ قومی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں۔ان کے لئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔بعض اسلام کے مخالف اپنے نفس امارہ کی پیروی سے سب کچھ کرتے ہیں۔مگر اس پاک طریق سے سخت نفرت رکھتے ہیں۔کیونکہ بوجہ اندرونی بے قیدی کے جو ان میں پھیل رہی ہے۔ان کو اس پاک طریق کی کچھ پروا اور حاجت نہیں۔اس مقام میں عیسائیوں پر سب سے بڑھ کر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے مسلم الثبوت انبیاء کے حالات سے آنکھ بند کر کے مسلمانوں پر ناحق دانت پیسے جاتے ہیں۔شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح کے جسم اور وجود کا خمیر اور اصل جڑا اپنی ماں کی جہت سے وہی کثرت ازدواج ہے۔جس کی حضرت داؤد ( مسیح کے باپ) نے نہ دو نہ تین بلکہ سو بیوی تک نوبت پہنچائی تھی۔وہ بھی ایک سے زیادہ بیوی کرنا زنا کرنے کی مانند سمجھتے ہیں اور اس پر خبث کلمہ کا نتیجہ جو حضرت مریم صدیقہ کی طرف عائد ہوتا ہے۔اس سے ذرا پر ہیز نہیں کرتے۔اور باوجود اس تمام بے ادبی کے دعوئی محبت مسیح رکھتے ہیں۔جاننا چاہئے کہ میل کے رو سے تعدّ دنکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح کے دادا صاحب بھی شامل ہیں۔عملاً اس فعل کے جواز بلکہ استحباب پر مہر لگا دی ہے۔اے ناخدا ترس عیسائیو! اگر ملہم کے لئے ایک ہی جو ر و ہونا ضروری ہے۔تو پھر کیا تم داؤ د جیسے راست باز نبی کو نبی اللہ نہیں مانو گے یا سلیمان جیسے مقبول الہی کو ملہم ہونے سے خارج کر دو گے۔کیا بقول تمہارے یہ دائمی فعل ان انبیاء کا جن کے دلوں پر گویا ہر دم الہام الہی کی تارگی ہوئی تھی۔اور ہر آن خوشنودی یا نا خوشنودی کی تفصیل کے بارے میں احکام وارد ہو رہے تھے۔ایک دائی گناہ نہیں ہے۔جس سے وہ اخیر عمر تک باز نہ آئے اور خدا اور اس کے