حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 546 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 546

حیات احمد ۵۴۶ جلد دوم حصہ سوم طرف سے دوسروں کے لئے واعظ ٹھہرے۔پادری وائٹ بریخٹ صاحب اس شخص کی دروغ گوئی کو خوب جانتے ہیں اور حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔اسی وجہ سے ہم نے اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۸۸ء میں صاف لکھ دیا کہ آئیندہ ہم ایسے ایسے دروغ گویوں کو مخاطب بنانا نہیں چاہتے۔ہاں اگر پادری وائٹ بریخٹ صاف طور پر جلسہ عام میں اقرار کر دیں کہ الہامی طاقت عیسائی گروہ سے مسلوب ہے۔اور پھر ہم سے کوئی الہامی پیشگوئی پیش از وقوع طلب کرنا چاہیں تو ہم بدیں شرط جلسہ عام میں پیش کریں گے کہ اگر ہماری پیشگوئی پیش کرده بنظر حاضرین جلسہ صرف انکل اور اندازہ ہو۔انسانی طاقتوں سے بالا تر نہ ہو۔یا بالآ خر جھوٹی نکلے تو دوسو روپیہ ہرجانہ پادری صاحب کو دیا جائے گا۔ورنہ بصورت دیگر پادری صاحب کو مسلمان ہونا پڑے گا۔لیکن پادری صاحب نے ایسے جلسہ میں آنا قبول نہ کیا۔اور صاف گریز کر گئے۔اور کوہ شملہ پر چلے گئے۔حالانکہ ہم انہیں کے لئے ایک ماہ تک برابر بٹالہ میں ٹھہرے۔غرض انہوں نے تو ہمارے مقابل پر دم بھی نہ مارا۔لیکن اسے میاں فتح مسیح نے ۷ جون ۱۸۸۸ء کے اخبار نور افشاں میں چھپوا دیا ہے کہ ہم اس طور پر تحقیق الہامات کے لئے جلسہ کر سکتے ہیں کہ ایک جلسہ منعقد ہو کر چارسوال بند کاغذ میں حاضرین جلسہ میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیں گے وہ ہمیں الہاماً بتلائے جائیں اس کے جواب میں اول تو یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ جیسا کہ ہم اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۸۸ء میں لکھ چکے ہیں۔فتح مسیح جس کی طینت میں دروغ ہی دروغ ہے ہرگز مخاطب ہونے کے لائق نہیں۔اور اس کو مخاطب بنانا اور اس کے مقابلہ پر جلسہ کرنا ہر ایک راست باز کے لئے عار وننگ ہے۔ہاں اگر پادری وائٹ بریخٹ صاحب ایسی درخواست کریں کہ جونور افشاں ۷ جون ۱۸۸۸ء کے صفحہ ے میں درج ہے تو ہمیں بسر و چشم منظور ہے۔ہمارے ساتھ وہ خدائے قادر و علیم ہے جس سے عیسائی لوگ ناواقف ہیں وہ پوشیدہ