حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 545 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 545

حیات احمد ۵۴۵ (۴۴) جلد دوم حصہ سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ اعلان پادری وائٹ بر سخٹ صاحب پر اتمام حجت اور میاں فتح مسیح کی دروغ گوئی کی کیفیت ہم اپنے اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۸۸ء میں جو مطبع شمس الہند گورداسپورہ میں چھپا تھا۔اس بات کو بتصریح بیان کر چکے ہیں کہ میاں فتح مسیح عیسائی نے ملہم ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے پھر ۲۱ رمئی ۱۸۸۸ء کے جلسہ میں تمام حاضرین کے رو بروجن میں معزز ہندو اور بٹالہ کے آریہ بھی تھے۔اپنی دروغگوئی کا صاف اقرار کر دیا۔اور بالمقابل الہامی پیشگوئیوں کے پیش کرنے سے بھاگ گیا مگر افسوس کہ اسی عیسائی صاحب نے ۳۱ رمئی ۱۸۸۸ء کے نور افشاں میں اپنی دروغگوئی کے چھپانے کے لئے یہ ظاہر کیا ہے کہ میں نے الہام کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔مقام تعجب ہے کہ ان دیسی عیسائیوں کو جھوٹ بولنے سے ذرا بھی شرم نہیں آتی۔بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ اگر آپ نے ملہم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو پھر کیوں ۲۱ مئی ۸۸ء کے جلسہ میں رائے بشمبر داس صاحب رئیس بٹالہ اور بابو گوردت سنگھ صاحب مختار عدالت نے آپ کو ملامت کی کہ ایسا جھوٹ کیوں بولا اور کیوں ناحق لوگوں کو تکلیف دی۔اور کیوں منشی محمد بخش صاحب مختار عدالت نے اُسی جلسہ میں شہاد تا بیان کیا کہ فتح مسیح انکار دعوی الہام میں بالکل جھوٹا ہے۔اس نے میرے روبرو ایک مجمع کثیر میں اپنے ملہم ہونے کا دعوی کیا ہے۔بھلا یہ بھی جانے دو خود پادری وائٹ بر سخٹ سے حلفاً دریافت کیا جائے کہ کیا ۱۸ رمئی ۱۸۸۸ء میں فتح مسیح نے پادری صاحب کے نام یہ چٹھی نہیں لکھی تھی کہ میں نے بالمقابل الہامی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔اب انصافاً سوچنا چاہئے کہ جس شخص کے مادہ میں اس قدر جھوٹ بھرا ہوا ہے کیا وہ اس منصب کے لائق ہے کہ عیسائی کلیسا کی