حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 535
حیات احمد ۵۳۵ جلد دوم حصہ سوم قضاء کروں۔چنانچہ آپ نے وضو کر کے نماز شروع کر دی اور نہایت اطمینان کے ساتھ نماز ادا کر کے فرمایا کہ بچے کا کیا حال ہے تو اس کے جواب میں بتلایا گیا کہ بچہ فوت ہو گیا ہے۔تو آپ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر خاموش ہو گئیں۔یہ واقعہ الحکم میں شائع شدہ موجود ہے۔اس وقت جبکہ چاروں طرف شور بے تمیزی بچ رہا تھا۔ایک زلزلہ آیا ہوا تھا۔ایک ماں کے ایمان کی پختگی کی ایسی مثال کم ملے گی کہ اپنے لخت جگر کو بستر مرگ پر چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے سکونِ قلب کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔جاؤ ڈھونڈ و! دیکھو کہ اس کی مثال کہیں نظر آتی ہے؟ ان کی زبان سے کوئی شکوہ ، کوئی کلمہ قابل اعتراض نہیں نکلا۔انہوں نے اپنے خاوند سے یہ نہیں پوچھا۔کہ آپ تو اس لڑکے کے متعلق ایسا خیال کرتے تھے ، اب یہ کیا ہوا۔پورا اطمینان ، پورا سکون ، قلب میں موجود تھا اور إِنَّ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔پڑھ کر خاموش ہو گئیں۔یہ شان ہے حضرت ام المؤمنین کے ایمان کی پختگی کی اور رضا بالقضاء کی۔اور یہی ایک مسلمان عورت کی شان ہے۔حضرت اقدس نے اپنے مخلص مریدوں کو اس پیشنگوئی کی وضاحت پر مفصل خط لکھے جو سلسلہ کے لٹریچر میں موجود ہیں۔الغرض صاحبزادہ بشیر اول خدا کے ان الہاموں کے ماتحت فوت ہو گیا۔آپ نے ایک اشتہار لکھا ، جس پر یہ شعر لکھا۔اور تحریر فرمایا:۔ہم نے اُلفت میں تری بار اٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا غرض جو اس کی نگاہ میں راستباز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اٹھاتے چلے آئے ہیں۔سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے۔اس لئے اگر ہم بھی خویش و بیگانہ سے کچھ آزار اٹھا ئیں تو ہمیں شکر بجالا نا چاہئے اور خوش