حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 522
حیات احمد ۵۲۲ مسٹر الیگزینڈ رویب کے متعلق کچھ اور جلد دوم حصہ سوم مسٹر الیگزینڈر ویب ہندوستان کے سفر سے واپس چلے گئے اور اپنے مشن میں ناکام ہو گئے جب وہ لاہور آئے تھے تو راقم الحروف کو بھی ان سے ملنے اور دیکھنے کا موقعہ ملا۔ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے (جو بعد میں مرتد ہو گئے ) ان کو بہت کچھ ترغیب دلائی مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ اس وقت وہاں جانا میرے مشن کی ناکامی کا باعث ہو جائے گا۔لیکن آخر وہی ناکامی ہوئی۔اس محرومی کا ان کو ہمیشہ افسوس رہا۔اور ان کو حسرت رہی کہ پھر وہ ہندوستان آئیں۔اور حضرت کے حضور سعادت انداز ہوں مگر اب وقت نکل چکا تھا انہوں نے حضرت ڈاکٹر محمد صادق صاحب سے خط و کتابت کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے تاسف کا اظہار کرتے رہے آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر انہوں نے حضرت ڈاکٹر صادق کو تعزیت کا خط لکھا جو حسب ذیل ہے۔خط آمده از ویب صاحب از نمبر ۱۴۹ رچنٹ نٹ سٹریٹ رور فورڈ۔نیو جرسی۔یو۔ایس۔اے بخدمت مفتی محمد صادق صاحب۔قادیان ۳۰ راگست ۱۹۰۸ء میرے پیارے بھائی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا خط مورخہ ۱۰ار جولا ئی مجھے بر وقت مل گیا۔ریویو آف ریلیجنز میں ہمارے معزز بھائی حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی وفات کی خبر پڑھ چکا ہوں اس خبر کے پڑھنے سے سخت غم اور رنج کا احساس میرے اندر جوش زن ہوا۔مرزا صاحب نے ایک بڑا کام پورا کیا اور سینکٹروں کے دلوں میں نور صداقت پھیلایا۔جن تک غالبا صداقت کسی اور طرح نہ پہنچ سکتی تھی۔میں سال سے زائد عرصہ گزرتا ہے جبکہ میری پہلے پہل آپ سے خط و کتابت ہوئی اور تب ہی سے میرے دل میں اس امر کا پُر زور اثر ہے کہ مرزا صاحب بے خوف سنجیدگی کے ساتھ حق کی تعلیم پھیلانے کے واسطے اپنے مقصد میں لگے رہے ہیں۔لاریب اس شخص کو خدا تعالیٰ نے