حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 503
حیات احمد ۵۰۳ جلد دوم حصہ سوم ساتھ ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں لیکن میں کہتا ہوں کہ نہ صرف نبی بلکہ بجز اپنے وطن کے کوئی راستباز بھی دوسری جگہ ذلت نہیں اٹھاتا اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَمَنْ يُّهَا جِرْ فِي سَبِيلِ اللهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةُ لا یعنی جو شخص اطاعت الہی میں اپنے وطن کو چھوڑے تو خدا تعالیٰ کی زمین میں ایسے آرام گاہ پائے گا جن میں بلا حرج دینی 66 خدمات بجالا سکے سواے ہم وطنوں ہم تمہیں عنقریب الوداع کہنے والے ہیں۔“ ( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۲۶) مگر یہ ارادہ ہجرت اللہ تعالیٰ کے بعض الہامات اور وحی خفی کے ارشادات کی وجہ سے ملتوی ہو گیا۔اور آپ نے اپنی بقیہ زندگی قادیان ہی میں بسر کی اس لئے کہ وحی الہی نے آپ کو یہ بشارت دی تھی وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ آپ کی زندگی میں کئی بار آپ کے قتل کے فتویٰ مخالف الرائے علماء اسلام نے شائع کئے اور بعض نے آپ کے قتل پر محض سرحدی لوگوں کو معمور کیا۔میں جو اس کتاب کا مؤلف ہوں ذاتی علم سے یہ کہتا ہوں کہ ضلع راولپنڈی کے ایک شخص نے آپ کے قتل کے لئے قادیان میں رومیوں کو بھیجا تھا۔اور ان کے حرکات وسکنات سے آگاہ ہو کر متعلقہ حکام کومیں نے مطلع کیا تھا مگر وہ اپنی ناکامی کا یقین کر کے واپس چلے گئے۔غرض اس قسم کی دھمکیاں اور کوششیں بارہا دی گئیں اور کی گئیں لیکن آپ ہر مرحلہ پر ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ نمایاں طور پر پورا ہوتا رہا۔حضرت اقدس اپنے سلسلہ تبلیغ واشاعت حق میں پوری قوت کے ساتھ مصروف تھے، انگریزی اشتہارات چھپوا کر تمام بلاد یورپ میں شائع کئے گئے اور یورپ کے مقتدر لوگوں کو بھیجے گئے۔اور آپ کو اپنی صداقت پر کامل یقین تھا جو لوگ اس نوعیت کے تھے آپ نے ان کو جواب دیا کہ ١٠١ ل النساء : 101 ا ترجمہ۔اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔