حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 501 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 501

حیات احمد ۵۰۱ جلد دوم حصہ سوم کئے گئے ہیں مگر ہمیں کچھ ضرور نہیں کہ مجازی حکام کو اس کی اطلاع دیں کیونکہ جو کچھ یہ لوگ ہماری نسبت بدارا دے کر رہے ہیں ہمارے حاکم حقیقی کو ان کا علم پہلے ہی سے حاصل ہے“۔شحنه حق روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۲۸ تا ۳۳۰ حاشیه ) آپ نے اس مخالفت میں موت کی دھمکی کا جواب تو مومنانہ روح سے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُون کے جذبہ کے اظہار سے دے دیا اور اعتراضات اور قلمی حملوں کا جواب شحنہ حق کی صورت میں دیا۔چنانچہ فرمایا ہم متعجب ہیں کہ اُن کی اِن تیزیوں کا باعث ہے کیا رام سنگھ کے کوکوں کی روح تو ان میں کہیں گھس نہیں آئی اے آریو ہمیں قتل سے تو مت ڈراؤ ہم ان ناکارہ دھمکیوں سے ہرگز ڈرنے والے نہیں جھوٹ کی بیخ کنی ہم ضرور کریں گے۔اور تمہارے ویدوں کی حقیقت ذرہ ذرہ کر کے کھول دیں گے۔☆ نمی ترسیم از مردن چنین خوف از دل افگند تیم که ما مردیم زاں روزے کہ دل از غیر برکندیم دل و جان در ره آن داستان خود فدا کردیم اگر جان ما ز ما خواهد بصد دل آرزو مندیم صبر و شکیب تو ہمارا شعار ہے مگر ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ۔۔۔یوں تو کون شخص ہے کہ ایک دن نہیں مرے گا مگر یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ ایسی دھمکیاں ان لوگوں کے دلوں پر کیا کارگر ہوسکتی ہیں جن کو کتاب الہی نے پہلے ہی سے یہ تعلیم دے رکھی ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: ۱۶۳) یعنی مخالفین کو کہہ دے کہ میں جان کو دوست نہیں رکھتا میری عبادات اور میرا جینا اور میرا مرنا خدا کے لئے ہے وہی حقدار خدا جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے۔“ شحنه حق روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۳۰ حاشیه ) ا ترجمہ۔ہم مرنے سے نہیں ڈرتے ہم نے یہ خوف دل سے نکال دیا ہے ہم تو اسی دن سے مر چکے جس دن سے ہم نے غیر سے اپنا دل ہٹا لیا ہے۔ہم نے اس محبوب کی راہ میں جان و دل فدا کر دیا۔اگر وہ ہماری جان بھی مانگے تو ہم شوق سے دیں گے۔