حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 42
حیات احمد ۴۲ جلد دوم حصہ اوّل آپ نے براہین احمدیہ کے سلسلے میں جس اشتہار کے متعلق دریافت فرمایا ہے۔مجھے مطلق یاد نہیں اور نہ مجھے اب ان چیزوں سے کچھ سروکار ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ان امور میں میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔( عبد الحق) مجھے اس خط کے بعد کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں بجز اس کے کہ یہ نکتہ چینی مجبلت اور عدم تدبر سے کی گئی ہے۔حقیقت نفس الا مری یہ ہے کہ براہین احمدیہ حضرت اقدس نے خدا تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت سے تصنیف کی اس میں انسانی طریق تصنیف کو دخل نہیں اور یہ امر بطور دعوی اور خوش فہمی عقیدہ کے نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے بڑے سے بڑے دشمنوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس قسم کی کتاب اس سے پہلے تصنیف نہیں ہوئی جن ایام میں براہین احمدیہ کھی گئی اس وقت عیسائیوں کی طرف سے جو حملے یا اعتراض اسلام پر کئے جاتے تھے ان کے جوابات اور تردید کے لئے جوطریق اختیار کیا گیا تھا وہ حضرت اقدس کے طریق خطاب و جواب سے بالکل جدا گانہ ہے اور حضرت کا طریق استدلال ممتاز نظر آتا ہے اس وقت امام فن مناظرہ مولوی ابوالمنصور صاحب دہلوی عیسائیوں کے رد میں کتابیں لکھنے میں مشہور تھے مگر انہوں نے ہمیشہ الزامی جوابات کی طرف زیادہ توجہ کی یہی حال دوسرے مسلمان مناظرین اور واعظین کا تھا۔مگر حضرت نے برخلاف اس وقت کی روش کے حقیقی جوابات کو مقدم کیا آپ نے ایک اصل پیش کیا کہ قرآن کریم کی کسی تعلیم و ہدایت پر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل پر جہاں اعتراض کیا گیا ہے اسی جگہ حقائق و معارف کا ایک خزانہ مخفی ہے اور معترضین کے تمام بڑے بڑے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے آپ نے اس حقیقت کو واضح کر دیا۔پس جب ہم اس عہد کے بڑے بڑے مصنفین کی تصنیفات کو جو انہوں نے تائید اسلام کے لئے معترضین اسلام کے رد میں لکھیں دیکھا تو معلوم ہو گیا این زمیں را آسمانے دیگر است