حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 500
حیات احمد ۵۰۰ جلد دوم حصہ سوم مخالفت کا سلسلہ آریہ سماج کی طرف سے اور اس کا علاج سرمه چشم آریہ کی اشاعت اور مقابلہ روحانی کی دعوت کی وجہ سے آریہ سماج کی طرف سے مخالفت کا بازار گرم ہو گیا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ تمام مذاہب میدان میں نکل رہے تھے ہر ایک اپنے مذہبی عقائد کی فضیلت بیان کرنے کے لئے آزاد تھا۔اس عرصہ میں جب کہ سرمہ چشم آریہ کے جواب اور دعوت چہل روزہ وغیرہ کے مقابلہ میں کسی کو ہمت نہ ہوئی تو بعض لوگوں نے نہایت سخت الفاظ اور تہذیب سے گرے ہوئے اشتہارات آپ کے خلاف شائع کئے اور بعض کے عنوانات یہ تھے۔وو بیل نہ کو دا کو دی گون یہ تماشہ دیکھے کون۔سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن و فریب غلام احمد کی کیفیت۔ان اشتہارات کے علاوہ آپ کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں چنانچہ آپ نے اپنی کتاب شحنہ حق میں جو ۱۸۸۷ء میں شائع ہوئی اس خط کا ذکر اس طرح پر کیا ہے۔۲۷ جولائی ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں جو آریوں کی طرف سے مطبع چشمہ نور میں چھپا ہے ہمیں موت کی بھی دھمکی دی گئی ہے کہ تین سال کے اندر اندر تمہارا خاتمہ ہو جائے گا اور پھر ایک خط جو تین دسمبر ۱۸۸۶ء کو ایک گمنام آریہ بن کر کسی معلوم الحقیقت آریہ صاحب نے بصیغہ بیرنگ روانہ کیا ہے اس میں صاف صاف قتل کر دینے کا اعلان ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ زہر خورانی یا کسی اور تجویز سے بہر حال کچھ اندر ہی اندرا تفاق کر لیا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط کسی نادان مدرسہ کے لڑکے سے لکھایا گیا ہے جس کا دستخط خراب ہے مگر عبارت ایسے طرز اور ڈھنگ کی ہے جو ۲۷ / جولائی ۱۸۸۶ء کے اشتہار کی عبارت ہے لیکن یادر ہے کہ ہم حق کے اظہار میں ایسے اعلانوں سے ہرگز نہیں ڈرتے۔ایک جان کیا اگر ہماری ہزار جان ہو تو یہی خواہش ہے کہ اس راہ میں فدا ہو جائے اور گوہم جانتے ہیں کہ یہ تحریر میں کن حضرات کی ہیں اور کن اندرونی اور بیرونی سازشوں اور مشوروں اور باہم خط و کتابت کے بعد کسی قوی امید سے کسی اسی جگہ کے یہودا اسکر یوطی یا بگڑے ہوئے سکھ کی دم دہی سے جاری