حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 498 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 498

حیات احمد ۴۹۸ جلد دوم حصہ سوم اوپر کو چڑھ گیا۔اور میں نے چڑھتے ہی کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔آج آپ کا خط پڑھنے کے ساتھ میرے دل میں پختہ طور پر یہ جم گیا۔کہ وہ ہاتھ پکڑنے والا جس سے رفع تر ڈر ہوا۔آپ ہی ہیں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے خواب میں ہاتھ پکڑنے والے کے لئے دعا کی ایسا ہی برقتِ قلب خط کے پڑھنے سے آپ کے لئے منہ سے دلی دعا نکل گئی فَمُسْتَجَابٌ إِنْشَاءَ اللهُ تَعَالَى مکتوب ۲ رئی علاء بنام حضرت خلیفہ مسج اول مکتوب احمدیہ جلد پنجم نمبر صفحه ۲ مکتوبات احمد جلد۲ صفر ۳ مطبوعه ۲۰۵) ۱۸۸۷ء ” ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جا رہے تھے کہ الہام ہوا۔” نصف ترا نصف عمالیق را اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی کہ امام بی بی جو ہمارے جدی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مر جائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔یہ الہام ان دوستوں کو جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے، سنا دیا گیا تھا۔چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا۔کہ عورت مذکورہ مرگئی اور اس کی نصف زمین ہمیں اور نصف بعض دیگر شرکاء کو ملی۔“ (نزول المسیح صفحه ۲۱۳ ۲۱۴۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۹۲٬۵۹۱) قریباً ۱۸۸۷ء ” ایک دفعہ ہمیں موضع گنجراں ضلع گورداسپور کو جانے کا اتفاق ہوا اور شیخ حامد علی ساکن تھصہ غلام نبی ہمارے ساتھ تھا۔جب صبح کو ہم نے جانے کا قصد کیا تو الہام ہوا کہ اس سفر میں تمہارا اور تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہوگا۔“ چنانچہ راستہ میں شیخ حامد علی کی ایک چادر اور ہمارا ایک رومال گم ہو گیا۔اس وقت حامد علی کے پاس وہی چادر تھی۔“ (نزول المسیح صفحه ۲۲۹ و۲۳۰ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۰۷، ۶۰۸ ) ۱۸۸ء ”ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمعیل کا (جن کی عمر اس وقت دس برس کی تھی ) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی