حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 493
حیات احمد ۴۹۳ جلد دوم حصہ سوم اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) دوستوں کی نسبت ، اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گویا نجم الہند ہیں۔۔اور ایک دیسی امیر نو وارد پنجابی الاصل کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلاء اور کسی کی موت وفوت اعزہ وغیرہ ، اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی۔منجاب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔“ (ب) ” دلیپ سنگھ کی نسبت پیش از وقوع اس کے کو بتلایا گیا۔کہ مجھے کشفی طور پر معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کا آنا اس کے لئے مقدر نہیں۔یا تو یہ مرے گا۔اور یا ذلت اور بے عزتی اٹھائے گا لے۔(الف) ( یہ ) ” پیشگوئی بھی بڑی ہیبت کے ساتھ پوری ہوئی۔اور یکدفعہ نا گہانی طور سے ایک شریر انسان کی خیانت سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے نقصان کا آپ (سرسید احمد خاں صاحب۔مرتب ) کو صدمہ پہنچا۔آپ نے اس غم سے تین دن روٹی نہیں کھائی ایک مرتبہ منشی بھی ہوگئی۔اشتہار ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۴۱ ۴۲ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۷ ، ۴۸ بار دوم ) (ب) اخیر عمر میں سید صاحب کو ایک جوان بیٹے کی موت کا جانکاہ صدمہ پہنچا۔“ (نزول المسیح صفحہ۱۹۱۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۶۹)۔(الف) ” ہم نے صد ہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کے پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہو رہی ہے۔لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا۔۔بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سیکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور اور اپنے مدعا سے محروم رہا۔“ (اشتہار محک اخیار و اشرار ضمیمه سرمه چشم آریہ صفحہ ۴۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۱۸) (ب) دلیپ سنگھ عدل بیج سے واپس ہوا۔اور اُس کی عزت و آسائش میں بہت خطرہ پڑا۔جیسا کہ میں نے صد ہا آدمیوں کو خبر دی تھی۔“ (نزول المسیح صفحہ ۲۲۶۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۰۴) اخبار ریاض ہند امرت سر مطبوعہ ۳ مئی ۱۸۸۶ء میں مہاراجہ دلیپ سنگھ صاحب کے عدن میں رو کے جانے کی خبر شائع ہوئی۔