حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 492
حیات احمد ۴۹۲ جلد دوم حصہ سوم ۲۲ / جنوری ۱۸۸۶ء بروز جمعہ۔۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور ایک اور الہام عربی مرزا احمد بیگ کی نسبت ہوا تھا جس کو ایک مجمع میں جس میں بابو الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ ومولوی برہان الدین صاحب جھلمی بھی موجود تھے۔سنایا گیا تھا۔جس کی عبارت یہ ہے۔رَبَّيْتُ هَذِهِ الْمَرْأَةَ وَآثَرُ الْبُكَاءِ عَلَى وَجْهِهَا فَقُلْتُ اَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ تُوُبِى تُوبِيْ فَإِنَّ الْبَلاءَ عَلَى عَقِبِكِ وَالْمُصِيبَةُ نَازِلَةٌ عَلَيْكِ يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كَلابٌ مُّتَعَدِّدَةٌ ،، " (اشتہار پانزدهم جولائی ۱۸۸۸ء تہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء تبلیغ رسالت جلد صفحه ۲۰ حاشیہ۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۴ باردوم) ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء سے چند روز قبل ” ہم پر خود اپنی نسبت، اپنے بعض جدی اقارب کی نسبت، اپنے بعض بقیہ حاشیہ۔اپنے گلے سے اتارنا نہیں چاہتا کہ جو خدائے تعالیٰ کی عدالت اور انصاف نے جھوٹوں اور بے ایمانوں اور بد زبانوں اور بخیلوں اور متعصبوں کی گردن کا ہار کر رکھا ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - بالآخر واضح رہے کہ اس اشتہار کے جواب میں ۲۰ ستمبر ۱۸۸۲ء سے تین ماہ تک کسی پنڈت یا پادری جواب دہندہ کا انتظار کیا جائے گا۔اور اگر اس عرصہ میں علماء آریہ وغیرہ خاموش رہے تو انہیں کی خاموشی ان پر حجت ہوگی۔مشتهـ خاکسار غلام احمد مؤلف رساله سرمه چشم آریہ منقول از سرمه چشم آریہ۔مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر بار اول ستمبر ۱۸۸۶ ء جو صفحہ ۲۶۰ کے آگے چسپاں ہے اور چار صفحہ کا اشتہار ہے۔(تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۷۹ تا ۸۲ مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۰۵ تا ۱۰۷۔بار دوم ) لے ترجمہ۔میں نے اس عورت کو ایسے حال میں دیکھا کہ اس کے منہ پر گریہ و بکا کے آثار تھے۔تب میں نے اسے کہا کہ اے عورت! تو بہ کر تو بہ کر۔کیونکہ بلا تیری نسل کے سر پر کھڑی ہے اور یہ مصیبت تجھ پر نازل ہونے والی ہے۔وہ شخص (یعنی مرزا احمد بیگ صاحب ) مرے گا۔اس کی وجہ سے کئی سنگ سیرت لوگ ( پیدا ہو کر ) پیچھے رہ جائیں گے۔