حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 490 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 490

حیات احمد ۴۹۰ جلد دوم حصہ سوم کے ثمرات پیش کر کے قرآن مجید کی حقیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی صداقت پر ایک غیر فانی مہر کر دی۔اور دنیا کے آخر تک آریوں اور عیسائیوں پر اتمام حجت ہو چکی حضرت اس کے بعد ۲۲ سال تک زندہ رہے لیکن کسی شخص کو یہ حوصلہ اور ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس مقابلہ میں سامنے آتا۔بقیہ حاشیہ۔خود سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرہ سے نسبت ہوتی ہے۔یعنی ان کے سب اعتراضوں سے ان کی نظر میں اقومی واشد اور انتہائی درجہ کے ہوں۔جن پر اُن کی نکتہ چینی کی پُر زور نگاہیں ختم ہو گئی ہوں۔اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کر انہیں پر جا ٹھہری ہوں۔سو ایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ کے پیش کر کے حقیقت حال کو آزما لینا چاہئے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہو جائے گا۔کیونکہ اگر بڑے اعتراض بعد تحقیق ناچیز نکلے۔تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہو جائیں گے۔اور اگر ہم ان کا کافی و شافی جواب دینے سے قاصر رہے۔اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ جن اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کر رکھا ہے۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔اصولوں کو ایشر کرت ہی خیال کرتا ہے۔تو اس کو اسی ایشور کی قسم ہے کہ اس کتاب کا رڈ لکھ کر دکھلا دے۔اور پانسور و پیدا انعام پاوے۔یہ پانسو روپیہ بعد تصدیق کسی ثالث کے جو کوئی پادری یا بر ہمو صاحب ہوں گے دیا جائے گا۔اور ہمیں یاں تک منظور ہے کہ اگر منشی جیوند اس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور جو اس گرد و نواح کے آریہ صاحبوں کی نسبت سلیم الطبع اور معزز اور شریف آدمی ہیں۔بعد ردّ چھپ جانے اور عام طور پر شائع ہو جانے کے مجمع عام علماء مسلمانوں اور آریوں اور معزز عیسائیوں وغیرہ میں معہ اپنے عزیز فرزندوں کے حاضر ہوں اور پھر اٹھ کر قسم کھا لیں کہ ہاں میرے دل نے یہ یقین کامل قبول کر لیا ہے۔کہ سب اعتراضات رسالہ سرمہ چشم آریہ جن کو میں نے اول سے آخر تک بغور دیکھ لیا ہے اور خوب توجہ کر کے سمجھ لیا ہے اس تحریر سے رڈ ہو گئے ہیں اور اگر میں دلی اطمینان اور پوری سچائی سے یہ بات نہیں کہتا تو اس کا ضرر اور وبال اسی دنیا میں مجھ پر اور میری اسی اولاد پر جو اس وقت حاضر ہے پڑے۔تو بعد ایسی قسم کھا لینے کے صرف منشی صاحب موصوف کی شہادت سے پانسور و پیہ نقد ر ڈ کنندہ کو اسی مجمع میں بطور انعام دیا جائے گا۔اور اگر منشی صاحب موصوف عرصہ ایک سال تک ایسی قسم کے بداثر سے لے اس جگہ منشی جیوند اس صاحب پر لازم ہو گا کہ سب اعتراض مندرجہ رسالہ سرمه چشم آریہ حاضرین کو صیح طور پر سنا بھی دیں۔منہ