حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 488
حیات احمد ۴۸۸ جلد دوم حصہ سوم ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء کو آپ نے شائع کیا اور ان میں بھی تین ماہ کی میعاد دی تھی اور ایسے تمام مشہور آریوں اور عیسائیوں کے پاس آپ نے رجسٹری کرا کر روانہ کیا مگر اس کا بھی وہی جواب ہوا کہ ے آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے بقیہ حاشیہ۔جس سے طالب حق کو پر ہیز کرنا چاہئے۔دانشمند لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ جو پادری صاحبان پنجاب اور ہندوستان میں آ کر اپنے مذہب کی تائید میں دن رات ہزار ہا منصو بے باندھ رہے ہیں یہ ان کے ایمانی جوش کا تقاضا نہیں۔بلکہ انواع اقسام کے اغراض نفسانی ان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں۔اگر وہ انتظام مذہبی جس کے باعث سے یہ لوگ ہزار ہا روپیہ تنخواہیں پاتے ہیں۔درمیان سے اٹھایا جاوے۔تو پھر دیکھنا چاہئے کہ ان کا جوش و خروش کہاں ہے۔ماسوا اس کے ان لوگوں کی ذاتی علمیت اور دماغی روشنی بھی بہت کم ہوتی ہے۔اور یورپ کے ملکوں میں جو واقعی دانا اور فلاسفر اور دقیق النظر ہیں۔وہ پادری کہلانے سے کراہت اور عار رکھتے ہیں اور ان کو ان کے بے ہودہ خیالات پر اعتقاد بھی نہیں بلکہ یورپ کے عالی دماغ حکماء کی نگاہوں میں پادری کا لفظ ایسا خفیف اور دور از فضیلت سمجھا جاتا ہے کہ گویا اس لفظ سے یہ مفہوم لازم پڑا ہوا ہے کہ جب کسی کو پادری کر کے پکارا جاوے تو ساتھ ہی دل میں یہ بھی گزر جاتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کی علمی تحصیلوں اور لیاقتوں اور باریک خیالات سے بے نصیب ہے۔اور جس قدران پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں۔اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی جو ان کے اور فضلاء اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے ان کے اعتراضات تین قسم سے باہر نہیں۔یا تو ایسے ہیں کہ جو سراسر افترا اور بہتان ہیں۔جن کی اصلیت کسی جگہ پائی نہیں جاتی۔اور یا ایسے ہیں کہ فی الحقیقت وہ باتیں ثابت تو ہیں لیکن محل اعتراض نہیں محض سادہ لوحی اور کور باطنی اور قلت تذبر کی وجہ سے ان کو جائے اعتراض سمجھ لیا ہے۔اور یا بعض ایسے امور ہیں کہ کسی قدر تو سچ ہیں جو ایک ذرہ جائے اعتراضات نہیں ہو سکتے۔اور باقی سب بہتان اور افترا ہیں جو ان کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔اب افسوس تو یہ ہے کہ آریوں نے اپنے گھر کی عقل کو بالکل استعفیٰ دے کر ان کی ان تمام دور از صداقت کارروائیوں کو سچ مچ صحیح اور درست سمجھ لیا ہے۔اور بعض آر یہ ایسے بھی ہیں کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ کسی