حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 37
حیات احمد ۳۷ جلد دوم حصہ اوّل 4 الْقُرْآنِ وَالنَّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب وزینت بخشوں۔سواس امر میں آپ توقف نہ فرماویں اور جہاں تک جلد ہو سکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرما دیں اس کے بعد پنجاب میں آریوں کے شور وشغب اور عداوتِ اسلام کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کیا ہے اور آخر میں لکھا ہے کہ دوسری گزارش یہ ہے کہ اگر چہ میں نے ایک جگہ سے وید کا انگریزی ترجمہ بھی طلب کیا ہے اور امید کہ عنقریب آ جائے گا ! اور پنڈت دیانند کی دید بھاش کی کئی جلدیں بھی میرے پاس ہیں اور ان کا ستیارتھ پر کاش بھی موجود ہے، لیکن تا ہم آپ کو بھی تکلیف دیتا ہوں کہ آپ کو جو اپنی ذاتی تحقیقات سے اعتراض ہنود پر معلوم ہوئے ہوں یا جو وید پر اعتراض ہوتے ہوں ان اعتراضوں کو ضرور ہمراہ دوسرے مضمون اپنے کے بھیج دیں۔لیکن یہ خیال رہے کہ کتب مسلّمہ آریہ سماج کی صرف وید اور منوسمرت ہے دوسری کتابوں کو مستند نہیں سمجھتے بلکہ پرانوں وغیرہ کو محض جھوٹی کتابیں سمجھتے ہیں۔میں اس جستجو میں بھی ہوں علاوہ اثبات نبوت حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنود کے وید اور ان کے دین پر بھی سخت سخت اعتراض کئے جائیں کیونکہ اکثر جاہل ایسے بھی ہیں کہ جب تک اپنی کتاب کا نا چیز اور باطل اور خلاف حق ہونا ان کے ذہن نشین نہ ہو تب تک کیسی ہی خوبیاں اور دلائل حقاقیت قرآن مجید کے ان پر ثابت کئے جائیں اپنے دین کی طرف داری سے باز نہیں آتے اور یہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم اسی میں گزارہ کر لیں گے۔سو میرا ارادہ ہے کہ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا۔“ ایک اور خط مورخہ ۱۹ / فروری ۱۸۷۹ء میں تحریر فرماتے ہیں ”فرقان مجید کے الہامی اور کلام الہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے نہ موجب ناگواری میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا