حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 426
حیات احمد ۴۲۶ جلد دوم حصہ سوم دیا کریں گے اور کوئی بدعہدی اور کسی قسم کی نامنصفانہ حرکت ہم سے ظہور میں نہ آئے گی ہم سراسر سچائی اور راستی سے اپنے پر میشر کو حاضر و ناظر جان کر یہ اقرار نامہ لکھتے ہیں اور اسی سے اپنی نیک نیتی کا قیام چاہتے ہیں۔اور سال جو نشانوں کے دکھانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ ابتدائے ستمبر ۱۸۸۵ء سے شمار کیا جاوے گا۔جس کا اختتام تمبر ۱۸۸۶ء کے اخیر تک ہو جائے گا۔العبد لچھمن رام بقلم خود جو اس خط میں ہم نے لکھا ہے اس کے موافق عمل کریں گے۔پنڈت پہارا مل بقلم خود بشند اس ولد رعدا سا ہو کار بقلم خود۔منشی تا را چند کھتری بقلم خود۔پنڈت نہال چند۔سنت رام - فتح چند پنڈت ہر کرن۔پنڈت پیج ناتھ چوہدری بازار قادیان بقلم خود۔بشند اس ولد ہیرا نند برہمن۔نوٹ:۔ساہوکاروں کے مکتوب جن پر لوگوں کے دستخط ہیں ان میں سے سوائے سنت رام۔فتح چند اور ہر کرن کے باقی سب سے میری واقفیت ہی نہیں اچھے تعلقات رہے ہیں۔(عرفانی الكبير ) یہ پیشگوئی پوری ہو گئی مگر قادیان کے ان ساہوکاروں اور دوسرے نمائندگان نے باوجود اقرار کے اعلان کرنے میں خلاف عہد کیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ پنڈت لیکھرام صاحب نے قادیان آ کر ان لوگوں کو روک دیا کہ اس سے صداقت اسلام ثابت ہوتی ہے بلکہ یہ کوشش بھی کی کہ وہ اس کے خلاف اشتہار دیں۔خصوصاً لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملا وامل صاحب پر زور دیا کہ وہ ضروری ان نشانات کی تکذیب کریں جن کے وہ گواہ مشتہر ہو چکے ہیں۔یہ اصرار ان سے پنڈت لیکھرام صاحب کی وفات کے بعد بھی آریہ اخبارات شبہ چنتک وغیرہ کے ذریعہ جاری رہا مگر انہوں نے اخفائے حق کے جرم سے احتراز کیا اس لئے کہ ان کو قسم کھا کر انکار کرنا پڑتا تھا۔اور وہ حضرت اقدس کی صداقت کے قائل اور آپ کے ذریعہ جو نشانات خود ان کے اپنے متعلق ظاہر ہوئے تھے گواہ تھے۔