حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 422 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 422

حیات احمد ۴۲۲ جلد دوم حصہ سوم خط اس کا بعض دوستوں کی خدمت میں لاہور بھیجا گیا سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دولت مند مسلمان نے ایک سال تک ادا ہو جانے کی شرط سے چوہیں سو روپیہ نقد اس عاجز کے کار پردازوں کو بطور قرضہ کے دے دیا اور قریب دو سو مسلمان کے جن میں بعض رئیس بھی تھے جمع ہو گئے اور وہ روپیہ مع ایک خط کے جس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں بھیجی جاتی ہے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا اندرمن کے مکان پر جہاں وہ فروکش تھا لے گیا مگر اندر من غالباً اس انتظام کی خبر پا کر فرید کوٹ کی طرف بھاگ گیا۔آخر وہ خط بطور اشتہار کے چھپوایا گیا۔اور شہر میں تقسیم کیا گیا اور وہ رجسٹری شدہ خط راجہ صاحب نابھہ اور راجہ صاحب فرید کوٹ کے پاس بھیجے گئے اور بعض آریہ سماجوں میں بھی وہ خطوط بھیجے گئے۔شاید اگر کسی راجہ کے کہنے کہانے سے اندرمن نے اس طرف رُخ کیا تو پھر اطلاع دی جائے گی۔بالفعل اللہ تعالیٰ نے میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں رکھا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - خاکسار غلام احمد مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۹۱۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۶۰۹،۶۰۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) قادیان کے ساہوکاروں اور ہندوؤں کا مطالبہ قادیان کے بعض ہندو اور آریہ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور بعض اکثر نشانات کے گواہ تھے با ایں انہوں نے ایک سال کے اندر اس دعوت یکسالہ کی بناء پر نشان کا مطالبہ کیا چنانچہ انہوں نے آپ کو ایک تحریری درخواست اس غرض کی دی اور حضرت اقدس نے بھی تحریری جواب به ثبت دستخط گواہان دیا۔اس معاہدہ کو قادیان کے ایک مشہور اور ممتاز آریہ سماجی لالہ شرمپت رائے صاحب نے شائع کر دیا چنانچہ وہ تمام خط و کتابت حسب ذیل ہے۔