حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 421
حیات احمد ۴۲۱ اندرمن کے بعد پنڈت لیکھرام میدان مقابلہ میں جلد دوم حصہ سوم منشی اندرمن کے فرار کے بعد اس دعوت یکسالہ کے لئے کسی اور مذہب کے پیشوا کو تو جرأت نہ ہوئی البتہ پنڈت لیکھرام نے اس دعوت کے جواب میں، حضرت اقدس سے خط و کتابت کی۔پنڈت لیکھرام کے متعلق میں تمام واقعات کو جلد دوم کے نمبر دوم ص ۳۳ سے ص ۴۴ تک درج کر چکا ہوں کہ وہ اس میدان میں حسب شرائط کھڑا نہ رہ سکا۔اور بلطائف الحیل اس پیالہ کو تو ٹال دیا لیکن اپنی ذات کے متعلق پیشگوئی طلب کی اور اس کی اشاعت کی اجازت دی اور آخر وہ پیشگوئی ۱۸۹۷ء میں پوری ہو گئی اس کی تفصیل اپنے موقعہ پر آئے گی یہاں اس قدر ذکر اس دعوت یکسالہ کے سلسلہ میں آیا ہے۔اس سلسلہ میں وہ قادیان بھی آیا تھا قادیان کیوں کر آیا اور اسے کون لایا یہ تمام امور میں اسی جلد دوم نمبر دوم میں تفصیل سے بیان کر آیا ہوں۔یہ واقعات ۱۸۸۵ء تک کے وہاں آچکے ہیں اور اب ان کے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔اندرمن کے وفد کے متعلق کچھ اور اگر چہ میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ اندرمن کے پاس حضرت اقدس نے ایک وفد چوبیس سو روپیہ دے کر بھیجا تھا اس سلسلہ میں حضرت اقدس نے میر عباس علی صاحب کو ایک مکتوب کے ذریعہ سے جو اطلاع دی تھی تائیدی طور پر میں اسے بھی درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں تا کہ آئندہ زمانہ کے مؤرخ کو یکجائی طور پر مواد مل سکے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت اخویم مخدوم و مکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔بعد ہذا ان دنوں میں ایک شخص اندرمن نام جو ایک سخت مخالف اسلام ہے اور کئی کتابیں ردِ اسلام میں اس نے لکھی ہیں۔مراد آباد سے اول نابھہ میں آیا اور راجہ صاحب نابھہ کی تحریک سے میرے مقابلہ کے لیے لاہور میں آیا اور لاہور آ کر اس عاجز کے نام خط لکھا کہ اگر چوبیس سو رو پی نقد میرے لئے سرکار میں جمع کرا دو تو میں ایک سال تک قادیان میں ٹھہروں گا۔سو یہ موجودہ ایڈیشن میں ۷ ۱۷ تا ۱۹۰