حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 411 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 411

حیات احمد ۴۱۱ جلد دوم حصہ سوم آریہ درپن میں جو جگناتھ نے لکھا ہے۔اس کا جواب آپ بہت عمدہ طریق سے لکھیں۔کچھ دینا مت خوب ٹکڑے ٹکڑے اڑا دو۔ایسا نہ ہوگا ، تو یہ لوگ بند نہ ہوں گے وہ مضمون صرف جگناتھ ہی کا نہیں۔اس میں اندر من بھی شریک سمجھنا چاہئے مسلمانوں کے مقدمہ میں امداد کے لئے جو روپیہ آیا تھا اس میں اندرمن نے کیا کیا لیلا (کھیل کھیلے ) وہ تو آپ پر ظاہر ہی ہیں پھر ایسے کا کیا لحاظ رکھنا ، برابر لکھنا چاہئے۔“ (۱۴ جون ۱۸۸۲ ء از بمبئی ( منقول از رشی کے پتر اور گیا پن حصہ چہارم ) د یہ تھے منشی اندر من مراد آبادی جس نے اپنے محسن پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہ کیا یہ داستان بہت طویل ہے اور آریہ لٹریچر میں اس کے اوراق پھیلے ہوئے ہیں۔اس نے جب حضرت اقدس کے اس اشتہا رکو پڑھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس نے ایک سستی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ یقین کر کے قبول دعوت کے نام سے خط لکھ دیا افسوس ہے وہ خط مجھے باوجود تلاش کے نہیں مل سکا مگر حضرت نے جو جواب اس کو دیا اس سے حقیقت کا اظہار ہو جاتا ہے۔اور میں اسے ذیل میں درج کرتا ہوں۔خط بنام اندر من مراد آبادی اندر من مراد آبادی نے دعوت یکسالہ کے لئے چوبیس سو روپیہ مانگا تھا جو مسلمانوں کے لئے ایک معزز ڈیپوٹیشن کے ہاتھ بھیجا گیا اور یہ خط ساتھ لکھا گیا مگر اندر من کہیں بھاگ گیا آخر خط شائع کیا گیا۔(ایڈیٹر ) نقل اشتہار منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوعہ خط (جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے استاد و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی ) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھا کہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو اور زرموعودہ اشتہار پیشگی بنک میں داخل کر دو۔وغیرہ وغیرہ۔اس کے جواب میں خاکسار نے رقیمہ ذیل معہ دو ہزار چارسو