حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 401
حیات احمد ۴۰۱ جلد دوم حصہ سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ☆ بخدمت اخویم مکرم مولوی صاحب بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔مسودہ خط شکستہ آں مخدوم جو محمد شاہ نام ایک شخص نے مجھ کو دیا ہے۔مجھ سے اچھی طرح پڑھا نہیں گیا دوسرا مسودہ جو شمس الدین کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے پڑھ لیا۔اس عاجز نے محض اتمام حجت کی غرض سے یہ قصد کیا ہے۔بعدا جرائے نوٹس اگر کوئی مقابلہ کے لئے آیا یا نہ آیا۔بہر حال اتمام حجت ہے اور إِحْدَى الْحُسْنَيَيْن سے خالی نہیں انشاء اللہ تعالیٰ عمر کا اعتبار نہیں جس قدر جلدی ہو بہتر ہے اخیر خط میں یہ عبارت ضرور چاہئے کہ اگر کوئی شخص آنے کا ارادہ کرے تو اول بذریعہ درخواست اپنے ارادہ سے مطلع کرے میاں عبد اللہ پٹواری جو اس کام کے لئے گئے ہوئے ہیں ان کو آپ فہمالیش کر دیں۔کہ دو ہزار اشتہار انگریزی لے کر قادیان آجائیں۔اور خطوط بعد میں پہنچ جائیں گے۔ان کا زیادہ توقف کرنا ضروری نہیں۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۹ رفروری ۱۸۸۵ء پوسٹ کارڈ ) مشفقی مکرمی میاں عبداللہ صاحب بعد سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔چونکہ خطوط کے چھپنے میں ابھی دیر ہے اس لئے مناسب ہے کہ آپ دو ہزار اشتہار انگریزی لے کر قادیان چلے آویں۔اور جس روز یہ خط پہنچے اسی روز روانہ ہو آویں کہ میاں فتح محمد خاں انبالہ کی طرف جائیں گے اور اسی انتظار میں بیٹھے ہیں۔مگر توقف نہ ہو فی الفور چلے آویں۔اور دو ہزار اشتہار لے آویں۔والسلام (خاکسار غلام احمد از قادیان) نوٹ :۔یہ خط بھی حضور نے ۹ فروری ۱۸۸۵ء کو ہی لکھ کر مولوی محمد عبد اللہ صاحب کے نام حلا جس اشتہار کا اس خط میں ذکر ہے یہ وہ اشتہار ہے جو سرمہ چشم آریه و شحنه حق و آئینہ کمالات اسلام و برکات الدعا کے اخیر میں بھی لگا کر شائع کیا گیا تھا۔اور جس کے ایک صفحہ پر اردو مضمون متعلق براہین احمدیہ و دعوے ماموریت و مجد ڈیت ہے اور دوسرے صفحہ پر اسی اردو مضمون کا انگریزی میں ترجمہ ہے اور جس خط کا اس میں ذکر ہے یہ وہ خط ہے جو اشتہار مذکور کے ساتھ حضور نے مختلف مذاہب کے لیڈروں اور پیشواؤں کے نام رجسٹر کرا کر بھیجا تھا۔اور جس میں دو ہزار چار سو روپیہ ایک سال کے لئے بغرض نشان دیکھنے کے یہاں آ کر رہنے والے غیر مذہب کے ممتاز لوگوں کو دینے کا ذکر ہے۔