حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 389
حیات احمد ۳۸۹ جلد دوم حصہ سوم سا رنگ پیش آ گیا اور اسی سال میں آپ نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بشارتوں کے ماتحت دوسری شادی کی اور بعض عظیم الشان واقعات کا سلسلہ پیدا ہو گیا۔براہین کی تکمیل کے لئے آپ کو متعد د سفر امرتسر کے کرنے پڑے تھے کاپیوں اور پروفوں کی درستی کے لئے یہ سفر پیش آتے اور آپ بار ہا بلکہ کہنا چاہئے اکثر پا پیادہ بٹالہ تک قادیان سے آتے اور بعض اوقات امرتسر تک یگوں پر سفر کرتے تھے۔شب و روز آپ غیر معمولی قوت اور استقلال سے مصروف عمل تھے۔آپ کے الہامات کی اشاعت نے ایک نیا انقلاب پیدا کیا اس وقت اس قسم کی آواز کہیں سے آ نہیں رہی تھی۔صوفیوں اور سجادہ نشینوں اور علماء پر اس کا غیر معمولی اثر ہوا اور انہوں نے سمجھا کہ ہماری دوکان پر یہ بجلی ہو کر گرے گی اس لئے علماء سوء اپنے ہتھیار لے کر مخالفت کے لئے کھڑے ہوئے اس وقت علماء کی قوت بہت زبر دست تھی عوام پر ان کی ہی حکومت اور قبضہ تھا اور ان کے پاس کفر کا ایک ایسا حربہ اور ہتھیار تھا کہ اس سے جس کو چاہیں تباہ کر دیں۔مگر اس معاملہ میں ان کو سب سے پہلی اور آخری نا کامی حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں ہوئی حضرت اقدس نے بھی ان کی اس قسم کی کارروائیوں کی قطعاً پرواہ نہ کی اور وہ کرتے بھی کیوں؟ جبکہ خدا تعالیٰ نے ایک غیر معمولی قوت اور غیر معمولی استقامت کے ساتھ ان کو کھڑا کیا تھا اور قبل از وقت ان آندھیوں کا جو اس کے خلاف چلنے والی تھیں علم دے دیا تھا۔اور بار بار فرمایا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ۔اسی مخالفت کے ایام میں آپ براہین احمدیہ کی ہر جلد جو شائع ہوتی اپنی گرہ سے محصول ڈاک دے کر بصیغہ رجسٹری بھیج دیتے۔آپ کے دوستوں اور خدام میں سے کوئی اگر علماء کے حملہ سے خائف ہو کر اس کا تذکرہ کرتا تو آپ اس کو بھی تسلی دیتے۔غرض اس طوفانِ مخالفت میں آپ ایک مستحکم چٹان کی طرح کھڑے رہے۔علماء دہلی کو جواب علماء دہلی نے آپ کو مولوی محمد صاحب لود بانوی کے فتویٰ تکفیر کے متعلق جب اطلاع دی تو آپ نے یہی مناسب سمجھا کہ اصل کتابیں ان کی خدمت میں بھیج دی جاویں تا کہ وہ پڑھ کر صحیح رائے قائم کر لیں چنانچہ امرتسر ہی سے آپ نے حصہ سوم و چہارم علماء دہلی کو بھیج دیئے۔جیسا کہ آپ نے ۲۱ فروری ۱۸۸۴ء کے مکتوب میں میر عباس علی صاحب کو اطلاع دی۔