حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 379 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 379

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم صاحبزادہ منظور احمد صاحب مجھے یہ واقعہ سنایا کرتے اور فرمایا کرتے کہ گاڑی چلے جانے کے بعد ابا جان نے دہی بھلے ( دہی بڑے) خرید کئے۔یہ خیال کر کے کہ میں ساتھ ہوں۔اور مجھے کہا ” بخور“ میں نے کہا نہ انہا شما بخورید کچھ دیر تک ہم باپ بیٹوں میں یہ تکرار و اصرار ہوتا رہا۔آخر ہم دونوں نے کھا لئے۔اس واقعہ کو میں نے تربیت اولا د اور حضرت منشی احمد جان صاحب کی ارادت و عقیدت کے اظہار میں لکھ دیا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ جس روز حضرت اقدس دہلی سے شادی کر کے واپس ہوئے اُسی روز حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ عنہ اپنی شادی کر کے قادیان پہنچے تھے اور اس شادی کی یادگار سعادت نشان مرز ا عزیز احمد سلمہ اللہ سلسلہ کے ناظر اعلیٰ ہیں۔۱۸۸۴ء کی ایک اور خصوصیت حقیقت یہ ہے کہ ۱۸۸۲ ء سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جاوے کہ یہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے تو یہ مبالغہ نہیں اس وقت تک حضرت اقدس اسلام پر حملہ آوروں کے مقابلہ میں محض ایک دفاعی مقابلہ کرنے والے سپہ سالار کی حیثیت سے کھڑے تھے اور یہ کام آپ عملاً ۷۶۔۱۸۷۷ء سے کر رہے تھے۔اس وقت مختلف حملہ آوروں (عیسائیوں۔آریوں۔برہموؤں وغیرہ) کے اعتراضات کا جواب شائع کر رہے تھے اور یہی تحریکیں اپنی پوری قوت سے اسلام پر حملہ آور ہو رہی تھیں۔برہموؤں اور دوسرے معترضین اسلام کے طرز کلام اور صورت حملہ میں اختلاف تھا۔عیسائیوں نے باوجود اپنی تعلیم کی نرمی کے اظہار کے نہایت دریدہ دہنی سے حملے شروع کئے اور انہوں نے اس میدان میں ان مرتدین اسلام کو پہلی صف میں پیش کیا جو اپنی مادی اور نفسانی اغراض کے ماتحت ترک اسلام کر چکے تھے اور اپنی بدنفسی کا مظاہرہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر معاندانہ حملوں کی صورت میں کیا ان کی