حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 378 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 378

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم حضرت کے براقی اس شادی کی تقریب پر حضرت اقدس کے ہمراہ صرف تین آدمی تھے لالہ ملا وامل ( جو اس وقت تک زندہ ہیں ) حضرت میاں جان محمد صاحب رضی اللہ عنہ اور حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ آپ نے میر عباس صاحب کو بھی شریک ہونے کے لئے تحریک کی تھی مگر وہ بوجہ علالت ساتھ نہ جاسکے اور ہانہ کے اسٹیشن پر احباب نے ملاقات کی اور حضور پلیٹ فارم پر چہل قدمی فرماتے رہے۔حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ بھی ملاقات کے لئے موجود تھے اور انہوں نے ایک پوٹلی (جس میں کچھ رقم تھی) پیش کی تھی۔حضرت حافظ حامد علی رضی اللہ عنہ حضور سے بے تکلف تھے وہ بیان کرتے تھے کہ باوجودیکہ حضرت اقدس خود ایک حاذق طبیب تھے کبھی مجھے بھی فرماتے کہ تم کو کوئی نسخہ معلوم ہے نیز حافظ صاحب نے اس شادی کے سلسلہ میں مجھ سے بیان کیا کہ میرا قیام دہلی میں حضرت کے مخصوص کمرہ کے قریب تھا۔آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے کوئی ضرورت پانی وغیرہ کے لئے ہو اس لئے قریب رہو۔چونکہ رخصتانہ دہلی میں نکاح کے بعد ہو گیا تھا بہت بڑی فجر کو جب حضرت اقدس تہجد کے لئے اٹھے اور مجھے آ کر پکارا اور میں حاضر ہوا تو ہنستے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی فضل کیا۔میں نے پوچھا تو فرمایا کہ گھر میں ایام کی حالت ہے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح میری ستاری فرمائی۔“ اور بہت ہی خوش تھے اور بار بار الْحَمْدُ لِلَّهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ پڑھتے تھے اس سے آپ کی سیرت مُطَهَّرَہ پر جو روشنی پڑتی ہے اسے میں قارئین کرام پر چھوڑ دیتا ہوں۔لالہ ملا وامل صاحب نے مجھے بتایا کہ دہلی سے میاں جان محمد نے ایک خط لکھا تھا اس سے ایک غلط فہمی پیدا ہو گئی اور میرے گھر والوں کو میرے متعلق تو ہمات پیدا ہو گئے کہ شاید میں مسلمان ہو گیا ہوں۔اور میں نے بھی شادی کر لی ہے۔آخر جب ہم واپس آئے تو یہ شکوک دور ہو گئے۔واپسی پر آپ تھوڑی دیر لودہا نہ ٹیشن پر ٹھہرے اس وقت پھلور گاڑی زیادہ ٹھہر تی تھی حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ بہ معیت حضرت صاحبزادہ منظور احمد صاحب پھلور تک ساتھ چلے گئے اور وہاں جب تک گاڑی روانہ نہ ہوئی حضرت اقدس کے ہمراہ رہے پھر واپس ہوئے۔