حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 377
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم رسم و رسوم جانبین کی طرف سے کوئی رسم و رسوم کا نام تک نہ لیا گیا۔ہر ایک کام سیدھا سادہ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک کے حکم وارشاد کے مطابق ہوا جہیز کا سامان ایک صندوق میں بند کر کے کنجی حضرت صاحب کو دے دی گئی اور چپ چپاتے حضرت ام المومنین کو رخصت کر دیا۔(حیات ناصر صفحہ ۸ ایڈیشن اوّل) الغرض اس طرح سے نہایت سادگی کے ساتھ شریعتِ حقہ کے ارشاد کے مطابق اس پاک جوڑے کا تعلق مسجد خواجہ میر درد میں بین العصر والمغرب باندھا گیا۔حضرت میر صاحب کے رشتہ دار بُرا بھلا کہہ رہے تھے مگر آسمان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ برکات نازل فرما رہے تھے کیونکہ اس وقت عالم روحانیت میں ایک تعمیر نو کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔اس زمانہ میں بٹالے تک ریل بن چکی تھی حضرت صاحب رخصتا نہ کرا کے حضرت ام المومنین کو لے کر قادیان آگئے۔میں نے اس شادی کے متعلق کسی قدر تفصیل سے لکھنا پسند اس لئے کیا کہ یہ تقریب ایک آیۃ اللہ کا درجہ رکھتی ہے۔میں اس بات سے نہیں ڈرتا جیسا کہ بعض کمزور طبیعت کے لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوانح حیات کو ایسے رنگ میں لکھا جاوے کہ جانبداری کا شائبہ معلوم نہ ہو۔میں اسے مداہنت سمجھتا ہوں جس وجود کو اللہ تعالیٰ نے آیۃ اللہ اور حجۃ اللہ قرار دیا اور جس کو اپنی ہستی کی دلیل ٹھہرایا میں واقعات کو پیش کرتے وقت وہ رنگ اختیار کروں جو صحیح نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُسے فرمایا کہ اللہ تعالی عرش سے تیری تعریف کرتا ہے “۔مجھے اس کو اسی رنگ میں پیش کرنا ہے۔غرض یہ شادی بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ہستی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک نشان ہے۔اس لئے میں نے اس کے متعلق تمام امور کو جمع کر دیا ہے۔لا يَحْمَدُكَ اللَّهُ مِنْ عَرْشِهِ ( تذکره صفحه ۳۷، ۳۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء) 66