حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 376 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 376

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم تھا اس پر بھی رشتہ داروں نے بہت طعن کئے کہ اچھا نکاح کیا ہے کہ نہ کوئی زیور ہے نہ کپڑا۔حضرت میر صاحب اور ان کے گھر کے لوگ لوگوں کو یہ جواب دیتے تھے کہ میرزا صاحب کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ تعلقات نہیں ہیں گھر کی عورتیں ان کی مخالف ہیں پھر وہ جلدی میں آئے ہیں اس حالت میں زیور کپڑا کہاں سے بنوالا تے۔مگر برادری کے لوگوں کا طعن و تشنیع کم نہ ہوا (مفہوم۔سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحه ۳۹۸ تا ۲۰۱ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حضرت ام المومنین نے خود بھی اپنی شادی کے متعلق سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ۵۱ پر ایک روایت بیان فرمائی جس کے بعض ضروری فقرات یہ ہیں:۔پھر حضرت صاحب مجھے بیاہنے دتی گئے آپ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملا وامل بھی تھے یہ نکاح مولوی نذیر حسین نے پڑھا تھا۔یہ ۲۷ محرم ۱۳۰۲ھ بروز پیر کی بات ہے۔اس وقت میری عمر ۱۸ سال کی تھی۔حضرت صاحب نے نکاح کے بعد مولوی نذیر حسین کو پانچ رو پید اور ایک مصلے نذر دیا تھا۔“ (سیرت المہدی جلد اوّل حصّہ اوّل صفحه ۵۱ روایت نمبر ۶۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حضرت میر صاحب نے لکھا ہے کہ نکاح ۱۸۸۵ء میں ہوا۔حضرت میر صاحب کو سن کے متعلق غلطی لگی وہ لکھتے ہیں:۔” اس نکاح کے متعلق سوائے ان کی رفیق بیوی کے کسی کو علم نہ تھا۔حضرت صاحب کو چپکے سے بلا بھیجا تھا۔خواجہ میر درد کی مسجد میں بین العصر والمغرب مولوی نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے نکاح پڑھا وہ ڈولی میں بیٹھ کر آئے تھے کیونکہ بوجہ ضعف اور بڑھاپے کے وہ چل پھر نہیں سکتے تھے۔مہر۔گیارہ سو روپیہ مہر مقرر ہوا۔حضرت میر صاحب نے عین وقت پر اپنے اور اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو بلا بھیجا اس لئے وہ کچھ نہ کر سکے بعض رشتہ داروں نے گالیاں بھی دیں اور بعض دانت پیس کر رہ گئے۔میری تحقیق میں شادی کا سال ۱۸۸۴ء ہے۔عرفانی الکبیر