حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 353
حیات احمد ۳۵۳ جلد دوم حصہ سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ تو ایسا تھا کہ کسی کو آپ کا علم ہی نہ تھا۔آپ خود فرماتے ہیں:۔ع اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا ایسی گمنامی کی حالت میں رہنے والے انسان کے لئے نئی شادی کا انتظام کرنا کئی وجوہ سے بڑا مشکل تھا۔اوّل۔خاندان کے افراد جو موجود تھے۔وہ سب آپ کے دشمن تھے۔گھر کی مستورات کا یہ حال تھا کہ وہ اس قدر بھی پسند نہ کرتی تھیں کہ حضرت صاحب کو کوئی کھانے کی چیز ہی تحفہ کے طور پر پیش کر دے جیسے کہ نانی اماں کی روایت میں قبل ازیں آچکا ہے۔چہ جائیکہ کوئی ان کو پہلی بیوی کی موجودگی میں اپنی بیٹی کا رشتہ دے۔دوم۔رشتہ داروں سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ اس وقت دنیا کے کاموں میں انہماک تھا جس سے حضرت اقدس کو دور کا بھی تعلق نہ تھا۔سوم۔حضرت اقدس کی جسمانی حالت کسی شادی کی طرف راغب نہ تھی۔چہارم۔عمر کا تفاوت بھی روک تھا۔پنجم۔ایک بیوی کی موجودگی بھی روک تھی۔ششم۔حضرت صاحب اپنے رشتہ داروں میں تحریک کر ہی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ اس مقصد عظیم کے پورا کرنے کے لئے آپ کے خاندان میں کوئی بھی گھرانہ ایسا نہ تھا جس میں دینداری کی روح پیدا ہوتی۔ان حالات اور وجوہ کی موجودگی میں آپ کا شادی کے لئے کوئی تحریک کرنا اور پھر اس کا کامیاب ہو جانا بہت مشکل تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں سب سامان خود ہی کروں گا اس الہام کا آخری فقرہ تھا: تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی یعنی رشتہ کا انتخاب۔شادی کے لئے ضروریات کا مہیا کرنا سب کچھ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔