حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 352
حیات احمد ۳۵۲ جلد دوم حصہ سوم نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے۔عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔“ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۶۱،۶۰۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۹۶، ۹۷ بار دوم ) اس وحی کا یہ مطلب تھا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نئے خاندان کی بنیا د ر کھنے کے لئے پرانے خاندان کو ختم کر دیا جائے گا۔اور نئے خاندان کی بنیا د رکھی جائے گی۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جب کسی عظیم الشان قصر کی تعمیر مقصود ہوتی ہے تو تمام بوسیدہ عمارتوں کو گرا کر زمین کو صاف کر دیا جاتا ہے اور پرانی عمارت کی ایک اینٹ بھی نئی عمارت میں نہیں لگائی جاتی۔بالکل اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس نئے خاندان کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے خاندان کو ختم کر دیا جائے گا۔اور نئے خاندان کو بڑھایا جائے گا وہ کثرت سے ملکوں میں پھیل جائیں گے اور ان کو کبھی منقطع نہیں کیا جائے گا اور وہ آخری دنوں تک سرسبز رہیں گے اور وہ اس مقصد وحید میں لگے رہیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے مقصود تھا۔ان الہامات سے اس نئے خاندان کی شان و عظمت کا پتہ چلتا ہے اور اس کی غرض و غایت معلوم ہوتی ہے۔یہ غرض اور یہ غایت اور یہ مقصد چونکہ پہلی بیوی سے پورا نہیں ہوسکتا تھا۔پہلی بیوی سے صرف دولڑ کے تھے۔یعنی حضرت میرزا سلطان احمد صاحب اور میر زافضل احمد صاحب اول الذکر محکمہ مال میں ملازم تھے۔اور آخرالذکر محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔اور وہ اپنے دنیاوی کاروبار میں اس قدر منہمک تھے کہ اس مقصد کے لئے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے کوئی وقت نہ دے سکتے تھے۔یہی نہیں، بلکہ میر ز افضل احمد صاحب کو تو بیعت کرنے تک کا موقعہ نہ ملا۔اور حضرت میرزا سلطان احمد صاحب بھی حضرت مسیح موعود کی ساری زندگی میں بیعت نہ کر سکے۔اس لئے چونکہ پہلی بیوی اور اس کی اولاد سے وہ مقصد پورا نہ ہوسکتا تھا اس لئے ایک اور کی طرف توجہ ہوئی قدرتی امر تھا۔اس لئے جس قدر اہم مقصد تھا، اسی قدر ہم خاندان کی لڑکی کا انتخاب ضروری تھا۔سوایسا ہی ہوا۔اس الہام میں تیسرا فقرہ یہ تھا کہ :۔سب کام میں خود ہی کروں گا۔