حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 27
حیات احمد ۲۷ جلد دوم حصہ اول واضح رہے کہ اگر بعد معلوم کرنے قدر و منزلت کتاب کے کوئی امیر عالی ہمت محض فی سبیل اللہ اس قدر اعانت فرما دیں گے کہ جو کسر کی قیمت کی ہے اس سے پوری ہو جائے گی تو پھر بہ تجدید اعلان وہی پہلی قیمت کہ جس میں عام مسلمانوں کا فائدہ ہے قرار پا جائے گی۔اور ثواب اس کا اُس محسن کو ملتا رہے گا۔اور یہ وہ خیال ہے کہ جس سے ابھی میں نا امید نہیں اور اغلب ہے کہ بعد شائع ہونے کتاب اور معلوم ہونے فوائد اس کے ایسا ہی ہو۔اور انشاء اللہ یہ کتاب جنوری ۱۸۸۰ء میں زیر طبع ہوکر اس کی اجرا اسی مہینہ یا فروری میں شائع اور تقسیم ہونی شروع ہو جائے گی۔مکرر یہ کہ میں اس اعلان میں مندرجہ حاشیہ صاحبان کا بدل مشکور ہوں کہ جنہوں نے سب سے پہلے اس کتاب کی اعانت کے لئے بنیاد ڈالی اور خریداری کتب کا وعدہ فرمایا۔مورخہ ۳ دسمبر ۱۸۷۹ء المعلن مرزا غلام احمد۔رئیس قادیان ضلع گورداسپور۔پنجاب۔منقول از اخبار سفیر ہند نمبر ۵۱ مطبوعه ۲۰ دسمبر ۱۸۷۹ء صفحه ۸۲۴ تبلیغ رسالت جلد اول صفحه دتا۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۸، ۱۹۔بار دوم ) حصہ دوم کی اشاعت میں زیادہ وقفہ نہیں ہوا لیکن حصہ سوم کی اشاعت میں جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ دو سال کا وقفہ ہو گیا اور باوجود پوری کوشش کے کتاب متواتر نہ طبع ہوسکی اور نہ شائع ہوسکی اس عرصہ میں بعض لوگوں کو مختلف قسم کے شکوک کتاب کی نسبت پیدا ہونے شروع ہوئے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ حصہ سوم کی اشاعت میں تو قف اور تعویق کی ذمہ داری حضرت کی ذات پر نہیں بلکہ یہ بھی مطبع ہی کے نقص کے باعث ہوئی چنانچہ براہین احمدیہ حصہ سوم کے ٹائیٹل پیج صفحہ الف مطبوعہ ۱۸۸۲ ء پر آپ نے حسب ذیل عذر و اطلاع شائع کی۔عذر و اطلاع اب کی دفعہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں حد سے زیادہ تو قف ہوگئی۔غالبا اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت حیران ہوں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ طرح طرح کے شکوک و شبہات بھی کرتے ہوں۔مگر واضح رہے کہ یہ تو قف ہماری طرف سے ظہور میں نہیں آئی بلکہ اتفاق