حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 337
حیات احمد ۳۳۷ جلد دوم حصہ سوم گزر گیا مگر باوجود کوشش بلیغ اور باوجود اس کے کہ خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبہ کے لئے سخت الحاح ہوا اور اس مدت مدید اور اس قدر زمانہ التوا میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی اور بدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور بوجہ امتداد مدت درحقیقت وہ دلوں میں پیدا ہو سکتے تھے مگر پھر بھی قضاء و قدر کے مصالح نے مجھے یہ توفیق نہ دی کہ میں اس کتاب کو پورا کر سکتا۔اس سے ظاہر ہے کہ قضاء و قدر در حقیقت ایک ایسی چیز ہے جس کے احاطہ سے باہر نکل جانا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔مجھے اس بات پر افسوس ہے بلکہ اس بات کے تصور سے دل دردمند ہو جاتا ہے کہ بہت سے لوگ جو اس کتاب کے خریدار تھے اس کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے گزر گئے مگر جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں انسان تقدیر الہی کے ماتحت ہے۔اگر خدا کا ارادہ انسان کے ارادہ کے مطابق نہ ہو تو انسان ہزار جد و جہد کرے اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکتا۔لیکن جب خدا کے ارادہ کا وقت آ جاتا ہے تو وہی امور جو بہت مشکل نظر آتے تھے۔نہایت آسانی سے میسر آ جاتے ہیں۔۔۔بالآ خریہ بھی یادر ہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ کے چھاپنے میں تئیس برس تک التواء رہا یہ التواء بے معنی اور فضول نہ تھا بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اس وقت تک پنجم حصہ دنیا میں شائع نہ ہو جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیشگوئیاں ہیں کیونکہ براہین احمدیہ کے پہلے حصے عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کی عظیم الشان مقصد یہی تھا کہ وہ موعودہ پیشگوئیاں ظہور میں آجائیں۔اور یہ خدا کا ایک خاص نشان ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اس وقت تک مجھے زندہ رکھا یہاں تک کہ وہ نشان ظہور میں آگئے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۲۰۱ ( ناشر )