حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 324
حیات احمد ۳۲۴ جلد دوم حصہ سوم مخالفین اور کمزور طبیعت لوگوں نے بڑا شور مچایا مگر آپ نے بار بار صاف اعلان کیا کہ جو خریدار چاہے وہ کتاب واپس کر کے اپنی رقم لے لے اور بعضوں کو آپ نے قیمت واپس کی حالانکہ کتاب بقیہ حاشیہ:۔کی طرف نہیں گیا۔بوجہ علالت وضعف طبیعت ابھی ہندوستان کی سیر میں تامل ہے۔شاید اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ بات موسم سرما میں میسر آجاوے۔ہر ایک امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کبھی کبھی اپنے حالات سے مطلع فرماتے رہیں۔خواب آپ کی انشاء اللہ بہت عمدہ ہے۔بعض نفسانی الا یشوں سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے وَاللهُ أَعْلَم۔( خاکسار۔غلام احمد از قادیان ۷ ستمبر ۶۸۴) ( مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحه ۱۴۸، ۱۴۹) (نوٹ ) سو جان پور کی طرف تشریف لے جانے کا ارادہ حضور کا اس بناء پر تھا کہ حضور کو ان ایام میں یہ خواہش تھی کہ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں نہ ہم کسی کو جانتے ہوں نہ ہمیں کوئی جانتا ہو اس پر جناب مولوی عبداللہ صاحب نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور اس خاکسار (مولوی عبداللہ صاحب) کو بھی اپنے ہمراہ لے جائیں حضور نے مولوی عبداللہ صاحب کی اس درخواست کو منظور فرما لیا اسی بناء پر مولوی عبداللہ صاحب کے خط کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا کہ ابھی تک بباعث بعض موانع یہ عاجز قادیان میں ہے۔سو جان پور کی طرف نہیں گیا۔اسی اثناء میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ ” تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہو گی۔اس لئے حضور نے سو جان پور کی طرف جانے کا ارادہ ملتوی کر کے ہوشیار پور جانے کا ارادہ فرما لیا چنانچہ اسی بناء پر حضور شروع جنوری ۱۸۸۶ء میں مولوی عبد اللہ صاحب، حافظ حامد علی صاحب اور ایک شخص فتح خاں نامی کو اپنے ہمراہ لے کر سید ھے ہوشیار پور کو روانہ ہو گئے۔اور وہاں پہنچ کر شیخ مہر علی صاحب رئیس ( جو اس وقت حضور سے اخلاص و محبت رکھتے تھے ) کے طویلے میں جا کر چالیس روز تک ایک بالا خانہ میں بالکل الگ رہے۔حضور کے ہرسہ خدام رفقاء اسی طویلے میں نیچے کے حصہ میں الگ رہتے تھے چنانچہ وہاں حضور نے چلہ کشی کی اور پھر ۲۰ روز وہاں اور ٹھہر کر مارچ ۱۸۸۶ء میں واپس قادیان کو تشریف لائے۔ہندوستان کی سیر ۱۸۸۹ء میں آ کر حضور نے صرف اس قدر کی کہ لدھیانہ میں بیعت لینے کے بعد علی گڑھ تشریف لے گئے اور وہاں ایک ہفتہ کے قریب سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے ہاں ٹھہر کر وہاں سے پھر لد ہیا نہ تشریف لائے۔