حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 312
حیات احمد ۳۱۲ جلد دوم حصہ سوم لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ طالب حق کے لئے اسی قدر کافی ہے مگر جس شخص کا مقصد خدا نہیں۔اس کو کوئی دقیقہ معرفت اور کوئی نشان مفید نہیں۔“ ۱۳ / فروری ۱۸۸۴ء۔مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۸۱۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۹۷ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس فیصلہ کن جواب کو حوالہ ڈاک کر کے آپ براہین کے کام کے لئے اُسی روز روانہ ہو گئے اور تحریر فریا کہ اب میں تَوَكُلا عَلَى اللهِ امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہوں۔کتاب تو تیار ہو چکی تھی۔جز و بندی اور سلائی وغیرہ کا کام ہورہا تھا جیسے جیسے تیار ہوتی جاتی تھی روانہ ہوتی رہتی تھی۔مسئلہ وحدت وجود کے متعلق زبانی تقریروں کے علاوہ بذریعہ خط و کتابت یہی بحث کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا ان خطوط کو میں نے مکتوبات احمدیہ (جلد اول) میں شائع کر دیا ہے۔لود ہانہ کے اس پہلے سفر کے متعلق میں نے حیات احمد جلد دوم نمبر دوم میں یکجائی طور پر مختصر حالات لکھ دیئے ہیں اور حاشیہ میں لودہانہ کی سلسلہ کی تاریخ میں اہمیت کا بھی مختصر ذکر کر دیا ہے۔یہاں میں اس قدر اور بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ لودہانہ کا سب سے پہلا سفر ۱۸۸۴ء کی پہلی سہ ماہی میں ہوا۔غالب قیاس یہ ہے کہ مارچ ۱۸۸۴ء میں ہوا ہے اس کے بعد دوسری مرتبہ آپ میر عباس علی صاحب کی عیادت کے لئے بھی تشریف لے گئے۔ان سفروں کے علاوہ لودہانہ میں سلسلہ بیعت سے پہلے اور بعد مختلف اوقات میں آپ لودہانہ تشریف لے گئے۔اور متعدد مرتبہ لودہانہ کے اسٹیشن سے گزرے یہ سفر حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے قیام اود ہانہ انبالہ، بیٹیالہ وغیرہ کی تقریب سے ہوئے۔اور بیعت کے سلسلہ کے بعد مسیح موعود کے دعوئی کے بعد سفروں میں وہ سفر بڑی اہمیت کا سفر ہے۔جبکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے آپ کا مباحثہ ۱۸۹۱ء میں ہوا۔سفر مالیر کوٹلہ آپ کے دوسرے سفروں پر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو سلسلہ واقعات میں ذکر کرتا رہوں گا۔البتہ لودہانہ کے سفروں کے سلسلہ میں جب آپ میر عباس علی صاحب کی عیادت کے سلسلہ میں آئے مکتوبات احمد جلد ا مطبوعہ ۲۰۰۸ء کے صفحہ ۵۰۷ تا ۶۴۳ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے میر عباس علی ساحب کے نام خطوط ہیں۔ان میں گاہے گا ہے وحدت الوجود کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔(ناشر)