حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 309
حیات احمد ۳۰۹ جلد دوم حصہ سوم اب آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریر درج کر دیتا ہوں جو آپ نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۸۰۶ و ۸۰۷ پر شائع کی ہے کیا اچھا ہو کہ یہ کتبہ ان کے قبر پر لگا دیا جاوے۔فرماتے ہیں:۔وو حِبَى فِى الله منشی رستم علی ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے یہ ایک نو جوان صالح اخلاص سے بھرا ہوا میرے اوّل درجہ کے دوستوں سے ہے۔اُن کے چہرہ پر ہی علامات غربت و بے نفسی و اخلاص ظاہر ہیں۔کسی ابتلا کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں۔بلکہ روز افزوں ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۸۰۶، ۸۰۷ - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۶) الغرض ایک طرف علماء سوء آپ کی مخالفت کے لئے اپنے تیر و ترکش لے کر میدان میں اترے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے آپ کے مخلصین کی جماعت میں ترقی کا آغاز کر دیا۔اور منکریں اور مخالفین کے حملے اور مساعی سلسلہ عالیہ کی ترقی کے لئے کھا د کا کام دینے لگے حضرت پر ان مخالفوں کا کچھ اثر نہ تھا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے نصرت و تائید کے آپ کے ہر گونہ اطمینان و تسلی کا موجب تھے۔اس وقت آپ قلمی جہاد میں مصروف تھے اور یہ ایک قسم کی اندرونی اور بیرونی جنگ تھی۔عیسائیوں، آریوں اور برہمنوں کا دفاع ایک طرف تھا اور بعض اندرونی مفاسد جن کے لئے آپ مہدی ہو کر آئے تھے۔آپ کی توجہ کو منعطف کرا رہے تھے چنانچہ ایک فتنہ وحدت الوجود کا پیدا ہورہا تھا۔اگر چہ یہ قضیہ بہت پرانا ہے مگر اس زمانہ میں بھی یہ سر نکال رہا تھا۔وحدت وجودیوں سے قلمی جنگ اس زمانہ میں خصوصیت سے دوآبہ بست جالندھر اور اس کے ملحقہ اضلاع میں وحدت وجودیوں کی ایک رو چل رہی تھی۔خاص شہر اور ہانہ میں بھی اس خیال اور عقیدہ کے