حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 308
حیات احمد ۳۰۸ جلد دوم حصہ سوم اس امتحان میں پورے اترے خدا کرے کہ ہم کو بھی ان جیسا اخلاق صدق اور وفا اور سچی قربانی کا موجب ہو اور اسی طرح خاتمہ بالخیر ہو۔چودھری صاحب نے آخری وقت تک بڑے صبر واستقلال کا نمونہ دکھایا۔ان کے چہرہ پر کچھ بھی گھبراہٹ کے آثار نہ پائے گئے۔بلکہ وہ پورے اطمینان اور حوصلہ سے جان دینے کے وقت تک رہے نہایت استقامت سے وصیت لکھوائی اور خود دستخط کئے۔آخری رفع حاجت کے لئے اٹھے اور فارغ ہو کر لیٹے ہی تھے کہ مرغ روح پرواز کر گیا حضرت خلیفہ اسیح نے جنازہ پڑھا اور احباب اپنے نہایت ہی پیارے اور مخلص بھائی کو حضرت امام علیہ السلام کے جوار میں پہنچا آئے۔چودھری صاحب نے دنیوی رنگ میں اپنی یادگار صرف ایک بچی چھوڑی ہے۔جو اپنی والدہ کے پاس وطن میں ہے۔جو ضلع جالندھر میں ہے مگر دراصل ان کی یادگار ان کی نیکیاں ان کی وہ خدمتیں جو دین کے لئے انہوں نے کی ہیں انمٹ ہیں اور کوئی ہاتھ انہیں محو نہیں کر سکتا۔اگر موقعہ ملا تو چودھری صاحب کے متعلق کچھ بعد میں لکھیں گے فی الحال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں جو حضور نے آپ کے متعلق ایک وقت لکھی تھی۔اس سے پہلے کہ میں حضرت اقدس کی وہ تحریر درج کروں ایک دو باتیں اور کہنا چاہتا ہوں چودھری صاحب کو نیاز مند ایڈیٹر الحکم کے ساتھ خصوصیت سے محبت تھی الحکم کے وہ۔پہلے خریدار تھے یعنی سب سے پہلا انسان جس کے نام الحکم جاری ہوا۔وہ چودھری رستم علی تھا۔اگر چہ ان کی وفات کے ساتھ الحکم اُن کے نام بند ہوتا ہے۔مگر میں اپنے مخلص دوست کی یاد تازہ رکھنی چاہتا ہوں۔اس لئے ان کی روح کو ثواب پہنچانے کی نیت سے الحکم جب تک جاری رہے گا کسی ایسے نادار شوقین کو دیا جائے گا جو قیمت ادا کر کے نہیں لے سکتا۔اور ایسا ہی ہر جدید تصنیف یا تالیف جو کارخانہ الحکم سے ایڈیٹر الحکم شائع کرے گا اپنے دوست کے لئے اس کی ایک کاپی حاجتمند کو لِلہ دیتا رہے گا۔إِنْشَاءَ اللَّهُ الْعَزِيزِ احباب سے درخواست ہے کہ وہ اس مخلص بھائی کے لئے جنازہ غائب پڑھیں اور بہت بہت دعائیں کریں۔