حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 294
حیات احمد ۲۹۴ جلد دوم حصہ سوم کوئی خط آتا تو اسے وضو کر کے پڑھا کرتے تھے۔اور ان مکتوبات کو ایک رجسٹر میں نقل کیا کرتے تھے۔خاکسار عرفانی الکبیر کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ان خطوط کا ایک بڑا حصہ جمع کر کے شائع کر دیا جو مکتوبات احمد یہ جلد اول کے نام سے موسوم ہے۔یہ زمانہ تھا جبکہ میر صاحب حضرت کے اول المعاونین کے رنگ میں کام کر رہے تھے۔اور یہ پہلا شخص تھا جس نے اور ہانہ میں سب سے پہلے حضرت کی طرف رجوع کیا اور پہلا شخص تھا جولو دہا نہ سے قادیان حاضر ہوا۔وہ برابر اپنے اخلاص میں ترقی کرتا چلا گیا۔یہ انکشافات حضرت پر ۱۸۸۳ء میں پھر ۱۸۸۴ء میں ہوئے اور اس کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی یہاں تک کہ پسر موعود کی پیشگوئی پر ایک طوفان بے تمیزی برپا کیا گیا اور پھر ہوشیار پور کے نکاح کے متعلق پیشگوئی پر بھی اخبارات خصوصاً نور افشاں وغیرہ میں شور مچایا گیا۔اور جنسی کی گئی۔لیکن میر عباس علی صاحب کو ابتلا نہ آیا۔بیعت کا اعلان ہوا اور میر صاحب نے بڑے اخلاص کے ساتھ پہلے ہی دن بیعت کی بلکہ ایک مرتبہ اس کشف کے بعد حضرت اقدس سے عرض بھی کیا کہ مجھے اس کشف سے جو میری نسبت ہوا تعجب ہوا۔کیونکہ میں آپ کے لئے مرنے کو تیار ہوں۔بقیہ حاشیہ:۔وقت ملاقات ایک گفتگو کی اثناء میں بنظر کشفی آپ کی حالت ایسی معلوم ہوئی کہ کچھ دل میں انقباض ہے۔اور نیز آپ کے بعض خیالات جو آپ بعض اشخاص کی نسبت رکھتے تھے۔حضرت احدیت کی نظر میں درست نہیں۔تو اُس پر یہ الہام ہوا۔قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِيْنَ سو الحمد للہ ! آپ جو ہر صافی رکھتے ہیں۔غبار ظلمت آثار کو آپ کے دل میں قیام نہیں۔اس وقت یہ بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا مگر بہت ہی سعی کی گئی کہ خداوند کریم اُس کو دور کرے۔مگر تعجب نہیں کہ آئندہ بھی کوئی ایسا انقباض پیش آوے۔جب انسان ایک نئے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لئے ضرور ہے کہ اس گھر کی وضع قطع میں بعض امور اس کو حسب مرضی اور بعض خلاف مرضی معلوم ہوں۔اس لئے مناسب ہے کہ آپ اس محبت کو خدا سے بھی چاہیں۔اور کسی نئے امر کے پیش آنے میں مضطرب نہ ہوں۔تا یہ محبت کمال درجہ تک پہنچ جائے۔یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک حالت رکھتا ہے۔جو زمانہ کی رسمیات سے بہت ہی دور پڑی ہوتی ہے اور ابھی تک ہر ایک رفیق کو یہی جواب روح کی طرف سے ہے۔