حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 269 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 269

حیات احمد ۲۶۹ جلد دوم حصہ سوم چنانچہ جب کوئی سوال اس قسم کا پیدا ہوا تو آپ نے اس کا جواب اسی اصول پر دیا ہے جو نبیوں وو کا طریق ہے۔ایک مرتبہ میر عباس علی صاحب نے بعض مشکلات اور مخالفتوں کا ذکر کیا تو فرمایا:۔آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک امر خداوند کریم کے ہاتھ میں ہے کسی کی فضول گوئی سے کچھ بگڑتا نہیں اسی طرح پر عادت اللہ جاری ہے کہ ہر ایک مہم عظیم کے مقابلہ پر کچھ معاند ہوتے چلے آئے ہیں۔خدا کے نبی اور اُن کے تابعین قدیم سے ستائے گئے ہیں۔سو ہم لوگ کیونکر سنت اللہ سے الگ رہ سکتے ہیں۔وہ ایڈا کی باتیں جو مجھ پر ظاہر کی جاتی ہیں ہنوز اُن میں سے کچھ بھی نہیں۔“ آن مکتوب مورخه ۱۲ / جون ۱۸۸۳ء مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحه ۲۳ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۳ مطبوعه ۲۰۰۸ء) غرض آپ ایک غیر متزلزل یقین کے ساتھ اپنی بعثت کے متعلق اعلان کرتے آئے ہیں کہ اور آپ کے خدام کو اسی قسم کے واقعات اور حالات پیش آنے والے ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور آپ کے متبعین کو پیش آتے ہیں اس دعوی میں کبھی کمی نہیں آئی بلکہ زمانہ کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے آپ کے مقام اور مدارج کی حقیقت کھلتی گئی اس دعوئی میں قوت اور شوکت پیدا ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا کہ آپ نے صاف صاف کہہ دیا کہ :۔” خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے“ غرض حاجی ولی اللہ صاحب کے سوالات نے ایک حقیقت کا اظہار کرا دیا۔اگر چہ خود حاجی صاحب کو اس نعمت اور فضل کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی بلکہ اُن کو براہین کے التوائے اشاعت سے بعض شکوک اور شبہات پیدا ہوئے اور انہوں نے بعض ناملائم الفاظ بھی اپنے مکتوب میں لکھے۔حضرت اقدس نے اُن کو اُن کے اُن خطوط کا بھی ایسا جواب دیا کہ جو ایک سلیم الفطرت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کسی دوسرے موقعہ پر اس کا ذکر آتا ہے۔یہاں مجھے یہی بیان کرنا ہے کہ حاجی صاحب تو محروم رہے مگر ان کے بعض عزیز اور رشتہ دار جیسے حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ